- فتوی نمبر: 36-171
- تاریخ: 31 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > اذان و اقامت کا بیان
استفتاء
1۔بچے کے کان میں اذان دینے کا کیا حکم ہے؟ آیا فرض ہے واجب ہے یا سنت؟
2۔اور سنت کے مطابق اذان دینے کا طریقہ کیا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مستحب ہے ۔
2۔بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر اور قبلہ رُخ ہو کر بچےکے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔ “حی علی الصلاۃ” پر اپنا چہرہ دائیں طرف اور “حی علی الفلاح ” پر اپنا چہرہ بائیں طرف موڑے۔
شامی (1/385) میں ہے:
(قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود
تقریرات رافعی (1/45) میں ہے:
قال السندي: : فیرفع المولود عند الولادة علی یديه مستقبل القبلة ویؤذن فی أذنه الیمنی ویقیم فی الیسرى، ویلتفت فيهما بالصلاة لجهة الیمین وبالفلاح لجهة الیسار وفائدة الاذان في اذنه انه يرفع ام الصبيان عنه.
خیر الفتاویٰ (2/223) میں ہے:
نو مولود کو ہاتھوں پر اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہوں دائیں کان میں اذان دے اور بائیں میں اقامت اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے وقت حسب معمول دائیں بائیں منہ پھیرے۔
مسائل بہشتی زیور (1/157) میں ہے:
جب بچہ پیدا ہو تو نہلانے کے بعد بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر اور قبلہ رُخ ہو کر بچےکے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔ “حی علی الصلاۃ” پر اپنا چہرہ دائیں طرف اور “حی علی الفلاح ” پر اپنا چہرہ بائیں طرف موڑے۔
مسائل بہشتی زیور (1/157) میں ہے:
نماز کے علاوہ جن موقعوں پر اذان کہنا مستحب ہے:
1۔جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved