• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بہنوں کا حقیقی باپ، بیٹے سے نکاح کا حکم

استفتاء

عرض ہے کہ حضرت دو بہنیں ہیں اور دوسری طرف سے باپ، بیٹا ہے تو یہ دونوں ان سے شادی کرسکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کرسکتے ہیں۔

الاصل للشیبانی (10/185) میں ہے:

‌ولا ‌بأس ‌بأن ‌يتزوج الرجل المرأة، ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها أو أختها أو عمتها أو خالتها أو ذات رحم محرم منها. وكذلك لا بأس أن يتزوج ذلك أبوه مكان ابنه

فتاوٰی محمودیہ(11/270)میں ہے :

سوال :پہلی بیوی کا لڑکا اور دوسری بیوی کی بہن ،ان کا ایک دوسرے سے نکاح جائز ہو گا یا نہیں ؟

جواب : اگر دو بہنیں ہوں ،ان میں سے ایک سےایک  آدمی نکاح کرے اور دوسری سے ا س کا لڑکا نکاح کرےتو شرعا اجازت ہے ،یعنی سوتیلی والدہ کی بہن ،حقیقی خالہ کی طرح حرام نہیں ،بلکہ اس سے نکاح جائز ہے ۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (7/261) میں ہے:

جواب: دو بہنیں حقیقی ان میں سے ایک باپ کے نکاح میں ہو اور دوسری بیٹے کے نکاح میں ہو یہ درست ہے،  شرعا ًاس میں کچھ حرج نہیں۔ واحل لکم ماوراء ذلکم میں داخل ہے اصل یہ ہے کہ دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں اکٹھا ہونا منع ہے باپ بیٹے کے نکاح میں ہونا ممنوع نہیں ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل (6/169) میں ہے:

جواب: باپ اور بیٹے کا نکاح دو سگی بہنوں سے صحیح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved