• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خاوند کی خواہش پر بیوی کا بال کٹوانا

استفتاء

خاوند کی خواہش پر بیوی بال کٹواسکتی ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نہیں۔

مشکوٰۃ المصابیح (رقم الحدیث:4485) میں ہے:

وعن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أن ‌تحلق المرأة رأسها

الد رالمختار (6/408) میں ہے:

‌قطعت ‌شعر ‌رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق

ہندیہ (6/238) میں ہے:

‌ولو ‌حلقت ‌المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه

الاشباہ مع الحموی (3/73) میں ہے:

وتمنع من حلق رأسهاوفي الحموي:وتمنع عن حلق رأسها اي حلق شعررأسها اقول ذکرالعلائي في کراهته انه لاباس للمرأة ان تحلق رأسها لعذر مرض ووجع وبغيرعذر لايجوز المراد بلابأس ههنا الاباحة لاترک مافعله اولي والظاهر ان المراد بحلق شعررأسها ازالته سواءکان بحلق او قص اونتف اونورة فيلحرروالمراد بعدم الجواز کراهة التحريم کما في مفتاح السعادة ولو حلقت فان فعلت ذلک تشبها بالرجال فهو مکروه لانها ملعونة

فتاویٰ رحیمیہ (10/121) میں  ہے:

سوال: اگر شوہر عورت کو فیشن کے طرز پر بال کاٹنے کے لیے کہے یا عورت از خود فیشن کی طرف پر بال کاٹے تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اگر شوہر عورت کو فیشن کے طرز پر بال کاٹنے کے لیے کہے یا عورت از خود فیشن کے انداز پر بال کاٹے تو یہ سخت گناہ کا کام ہے اور حرام ہے اور گناہ کے کام میں شوہر کی اطاعت جائز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved