• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ساس کے مرنے کے بعد ساس کا قرض کس کو ادا کیا جائے؟

استفتاء

ایک بندے نے اپنی ساس سے قرض لیا لیکن ادائیگی سے پہلے ساس مرگئی ۔ اس کے ایک سالے اور سالی کو قرض کا علم ہے لیکن ساس نے کہا تھا کہ مجھے ہی واپس کرنا کسی کو علم نہ ہو اب اس قرض کی ادائیگی  کا کیا طریقہ کار ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ساس کے مرنے سے قرض ختم نہیں ہوا بلکہ ان کے تمام شرعی ورثاء  کا حق ہوگیا ہے جو انہیں دینا ضروری ہے ۔

فتاوی شامی  (4/ 283) میں ہے :

(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ ‌لأن ‌الدين ‌صار حقهم.»

درر الحكام  فی شرح مجلۃ الأحكام (المادۃ:2 9 0 1)  میں ہے:

(كما تكون أعيان ‌المتوفى ‌المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved