- فتوی نمبر: 36-295
- تاریخ: 04 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > قسم کے الفاظ اور ان کے احکام
استفتاء
ایک استاد نے طلباء سے قسم لی ، قسم کے الفاظ یہ ہیں “میں قسم کھاتا ہوں جب تک جامعہ میں تخصص کے لیے زیر تعلیم ہوں بغیر کسی شرعی عذر کے فجر کی نماز میں میری تکبیر اولی نہیں رہے گی اور دیگر نمازوں میں رکعت نہیں رہے گی اس کی خلاف ورزی کرنے پر میں ہر رکعت کے بدلہ میں پچاس روپے صدقہ کیا کروں گا “اب سوال یہ ہے کہ اگر رکعت رہنے کی صورت میں پچاس روپے صدقہ ادا کرتا رہوں تو حانث ہوں گا یا جب 50 روپے ادا نہ کروں گا تب حانث ہوں گا؟
نوٹ : استاد سے وضاحت ممکن نہیں ہے۔اور طلباء کی اس سے کوئی نیت نہیں تھی بس استاد نے الفاظ کہلوائے تو طلباء نے یہی الفاظ بعینہٖ کہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں حنث کا تعلق فجر کی نماز کی تکبیر اولیٰ چھوٹنے سے اور اسی طرح دیگر نمازوں کی ایک رکعت چھوٹنے سے ہوگا، پچاس روپے کی ادائیگی کرنے نہ کرنے سے نہ ہوگا۔ نیز مذکورہ صورت چونکہ قسم اور نذر دونوں کی ہے اس لیے حانث ہونے کی صورت میں پچاس روپے بھی صدقہ کریں گے اور قسم کا کفارہ بھی دیں گے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ الفاظ معلق ہیں اور معلق الفاظ میں ضابطہ ہے کہ اگر وہ الفاظ وعدے کی نیت سے بولے جائیں تو وہ الفاظ وعدے پر ہی محمول ہوں گے نذر نہیں بنیں گے اور اگر ان الفاظ سے نذر کی نیت کی ہو یا کچھ بھی نیت نہ کی ہو تو الفاظ نذر پر محمول ہوں گے اور نذر منعقد ہو جائے گی چونکہ مذکورہ صورت میں طلباء کی معلق الفاظ سے کچھ بھی نیت نہیں تھی لہذا یہ الفاظ نذر کے ہوں گے اور نذر منعقد ہو جائے گی۔ اور یہ قسم کی صورت بھی اس لیے ہے کہ اس میں قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا تعلق فجر کی نماز میں تکبیر اولیٰ چھوڑنے اور دیگر نمازوں میں ایک رکعت چھوڑنے سے ہے لہٰذا جب آپ فجر کی نماز میں تکبیر اولیٰ چھوڑیں گے یا دیگر نمازوں میں رکعت چھوڑیں گے توحانث شمار ہوں گے جس کی وجہ سے قسم کا کفارہ آئے گا چاہے آپ 50 روپے صدقہ کریں یا نہ کریں ، پھر چونکہ فجر کی نماز میں تکبیر اولیٰ اور دیگر نمازوں میں رکعت چھوڑنے کی صورت میں 50 روپے صدقہ کرنے کی نذر بھی مانی تھی تو 50 روپے صدقہ کرنا بھی ضروری ہوگا۔
نوٹ :اگرچہ درج ذیل عبارت میں یمین کا مدار نیت پر رکھا گیا ہے کہ اگر کہنے والے کی نیت یمین کی بھی ہو تو یمین بھی ہوگی اور نذر تو ہے ہی لیکن ہمارے مسئلے میں نیت کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری صورت میں خود قسم کے الفاظ کا استعمال موجود ہے اس لیے نیت کی ضرورت نہیں اور پھر تکبیر اولی یا رکعت چھوڑنے پر 50 روپے صدقہ کرنے کو معلق کیا گیا ہے اس لیے نذر بھی ہے۔
المحیط البرہانی (3/374) میں ہے:
وإن أراد بقوله: لله عليّ اليمين …..واعلم أن هذه المسألة على تسعة أوجه: ……. إن نوى النذر واليمين كان يميناً ونذراً عند أبي حنيفة ومحمد، وعند أبي يوسف يكون نذراً، ولا يكون يميناً، فأبو يوسف يقول: بأن هذه الصيغة للنذر حقيقة، ولليمين مجازا؛ لأن النذر يوجب المنذور به لعينه، فكان واجباً من كل وجه، واليمين يفيد وجوب المحلوف به بغيره؛ إذ ليس في لفظ اليمين ما يقتضي الوجوب، وكان واجباً من وجه، واللفظ الموضوع لإفادة معنى لا يفيد ما دونه إلا مجازاً، والحقيقة والمجاز لا يرادان بلفظ واحد، فتترجح الحقيقة على المجاز وهما يقولان: هذا التصرف نذر صيغة يمين معنى، أما نذر صيغة، فظاهر، وأما يمين معنى؛ لأنه نوى اليمين، وصحت نيته لكون اللفظ محتملاً لليمين بإقامة حرف اللام مقام حرف الباء، فيجب العمل باللفظ المعنى كما في الهبة بشرط العوض، والعمل باللفظ والمعنى ليس من باب الجمع بين الحقيقة والمجاز؛ لأن اللفظ إذا صار مجازاً عن غيره تسقط حقيقته في نفسه، كالهبة المضافة إلى الحرة والعمل باللفظ والمعنى لا يوجب سقوط اعتبار اللفظ، بل يبقى اللفظ على حاله مقرراً في وصفه لكن زاد عليه شيء آخر كما في الهبة بشرط العوض، وقد وجد هذا الحد في مسألتنا؛ لأن حقيقة هذا اللفظ للنذر، ومتى نوى اليمين يبقى مقرراً على حاله، لكن يزاد عليه حرف القسم وهو الباء، أو تقام اللام مقام حرف الباء، فهذا من باب العمل باللفظ والمعنى، وإنه جائز
شامی (5/709) میں ہے:
(حلف لا يفعل كذا تركه على الأبد) ……. (فلو فعل) المحلوف عليه (مرة) حنث و (انحلت يمينه) وما في شرح المجمع من عدمه سهو (فلو فعله مرة أخرى لا يحنث) إلا في كلما (ولو قيدها بوقت) كوالله لا أفعل اليوم (فمضى) اليوم قبل (الفعل بر)
بدائع الصنائع (5/84) میں ہے:
ولو قال: أنا أحرم أو أنا محرم أو أهدي أو أمشي إلى البيت، فإن نوى به الإيجاب يكون إيجابا؛ لأنه يذكر ويراد به الإيجاب، كقولنا: أشهد أن لا إله إلا الله إنه يكون توحيدا، وكقول الشاهد عند القاضي: أشهد أنه يكون شهادة، فقد نوى ما يحتمله لفظه، وإن نوى أن يعد من نفسه عدة ولا يوجب شيئا كان عدة ولا شيء عليه؛ لأن اللفظ يحتمل العدة؛ لأنه يستعمل في العدات.
وإن لم يكن له نية فهو على الوعد؛ لأنه غلب استعماله فيه، فعند الإطلاق يحمل عليه، هذا إذا لم يعلقه بالشرط، فإن علقه بالشرط بأن قال إن فعلت كذا فأنا أحرم فهو على الوجوه التي بينا أنه إن نوى الإيجاب يكون إيجابا، وإن نوى الوعد يكون وعدا لما قلنا، وإن لم يكن له نية فهو على الإيجاب بخلاف الفصل الأول؛ لأن العدات لا تتعلق بالشروط، وإن الواجبات تتعلق بها، فالمعرفة إلى الإيجاب بقرينة التعليق بالشرط ولم توجد القرينة في الفصل الأول فصار الحاصل أن هذا اللفظ في غير المعين بالشرط على الوعد إلا أن ينوي به الإيجاب، وفي المعلق يقع على الإيجاب إلا أن ينوي به الوعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved