• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مذاق میں بیوی کو “تومیرے اوپر حرام ہے” کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

بیوی 4ماہ سے حاملہ تھی اور شوہر نے باتوں باتوں میں مزاق میں بیوی کو کہا  کہ ’’تو میرے اوپر حرام ہے‘‘یہ الفاظ تین یا چار مرتبہ بولےلیکن طلاق کی نیت نہیں تھی  اب اس بات کو18 سال ہو گئے ہیں صرف نیت یہ تھی کہ بچے کی پیداِش تک حرام ہے۔ اس مسئلہ کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام ہو گئی تھی جس کے بعد اکٹھے رہنا جائز نہ تھا لہذا اب تک جو اکٹھے رہے ہیں اس پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اکٹھے رہنا چاہیں تو  نیا نکاح کریں جس میں گواہ بھی ہوں اور مہر بھی ہو۔

توجیہ: “انت علی حرام” کے الفاظ اگرچہ محتاج الی النیہ نہ ہونے میں ملحق بالصریح ہیں اور صریح بائن،  صریح بائن کو لاحق ہو جاتی ہے (الصریح یلحق الصریح بائنا کان الواقع به او رجعیا)  جس کی وجہ سے مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہونی چاہئیں لیکن ایک تو اس وجہ سے کہ “انت علی حرام” کا ملحق بالصریح ہونا عارض (عرف) کی وجہ سے ہے جبکہ یہ اپنی اصل وضع کے لحاظ سے بائن کنائی ہے اور بائن کنائی،  بائن کو لاحق نہیں ہوتی اور دوسرے اس وجہ سے کہ بائن کنائی کے بائن کو لاحق نہ ہونے کی اصل علت” امکان جعله اخباراعن الاول “ہے جوکہ مذکورہ صورت میں بھی پائی جارہی ہے لہذا مذکورہ دو وجوہات کے پیش نظر بائن ملحق بالصریح ہونے کے باوجود سابقہ بائن طلاق کو لاحق نہ ہوگی اور جب لاحق نہ ہوگی تو تین طلاقیں بھی واقع نہ ہوں گی۔

شامی (4/528) میں ہے:

(‌الصريح ‌يلحق ‌الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا.

(قوله: الصريح ما لا يحتاج إلى نية) ……… ‌ولا ‌يرد ‌أنت ‌علي ‌حرام على المفتى به من عدم توقفه على النية مع أنه لا يلحق البائن، ولا يلحقه البائن لكونه بائنا لما أن عدم توقفه على النية أمر عرض له لا بحسب أصل وضعه

شامی (4/531) میں ہے:

‌وإذا ‌طلقها ‌تطليقة بائنة ثم قال لها في عدتها أنت علي حرام أو خلية أو برية أو بائن أو بتة أو شبه ذلك وهو يريد به الطلاق لم يقع عليها شيء لأنه صادق في قوله هي علي حرام وهي مني بائن اهـ أي لأنه يمكن جعل الثاني خبرا من الأول

شامی (5/84) میں ہے:

أنت علي حرام ألف مرة تقع واحدة

 (قوله: تقع واحدة) كذا في الذخيرة والبزازية. ووجهه أنه عبارة عن تكرير هذا اللفظ ألف مرة وهو لو كرره لا يقع إلا الأول لأن البائن لا يلحق البائن

امداد المفتین (1/525) میں ہے:

سوال :ایک شخص نے روبرو گواہوں کے اپنی منکوحہ کو تین دفعہ کہا کہ تم میرے لئے بالکل حرام ہو چکیں اب اگر شوہر طلاق سے انکار کرے تو گواہوں کے بیان سے عند الشرع طلاق ہو گئی یا نہیں۔ ؟ اور زبانی کہنا کافی ہو گایا تحریر کی ضرورت ہو گی؟

الجواب:  اگر واقع میں زید نے الفاظ مذکورہ کہے ہیں تو ایک طلاق بائنہ پڑ گئی خواہ گواہ ہوں یا نہ ہوں اور زبانی کہے یا تحریرا لکھے دونوں صورتیں برابر ہیں البتہ حاکم کے سامنے یا پنچائت میں اگر معاملہ پیش ہو گا تو حاکم طلاق کا حکم بغیر اقرار زوج یا گواہوں کے نہ کرے گااور اس صورت میں اگر خاوند منکر ہو اور گواہ طلاق کی گواہی دیں اور گواہوں میں شرائط شہادت موجود ہوں تو حکم طلاق کا کیا جاوے گا۔

والدليل عليه ما في الشامي ولو قال حلال ایزد بروی وحلال الله عليه حرام لا حاجة الى النية وهو الصحيح المفتى به للعرف وانه يقع به البائن لانه المتعارف (شامی ، باب الكنايات)

وايضاً قال الشامي ولا يردانت على حرام على المفتى به من عدم توقفه على النية مع انه لا يلحق البائن ولا يلحقه البائن لكونه بائنا لما ان عدم توقفه على النية امر عرض له لا بحسب اصل وضعه انتهی

عبارات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ لفظ حرام سے بلانیت طلاق کے بھی طلاق بائنہ پڑ جاتی ہے اور جب پڑگئی تو دوسری اور تیسری مرتبہ جو پھر حرام کے الفاظ کہے ان سے کوئی طلاق نہ پڑے گی لہذا ایک طلاق بائنہ رہ گئی بدون حلالہ کے عورت کی رضاء سے نکاح جدید بالفعل کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved