- فتوی نمبر: 37-43
- تاریخ: 11 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میری شادی کے بعد سے میرے شوہر کے ساتھ (معاشی تنگی کی وجہ سے ) معاملات خراب رہے ہیں اور لڑائی جھگڑے رہے ہیں۔ 2018 میں میرے شوہر نے مجھے بہت زیادہ مارا تھامیری والدہ اور بھائی پاس ہی تھے میرے شوہر نے مجھے مارتے ہوئے کہا تھا کہ “جا میں نے تجھے طلاق دی “، اس وقت میں نے ان کے پاؤں پکڑ لئے تھے اور کہا تھا کہ آپ ایسے نہ کریں۔ اس واقع کے ایک گھنٹہ بعد رجوع ہوگیا تھا۔ اور اکثر ان کے منہ پہ یہ الفاظ ہوتے ہیں کہ جانکل جا ، چلی جا گھر سے ،میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
2024 میں ہمارے تعلقات ہماری فیملیز کی وجہ سے پھر کافی خراب ہوئے اور میں نے ان پہ خلع کا کیس کر دیا عدالت سے پہلا نوٹس آیا تو انہوں نے صلح کی درخواست کی تو میں واپس شوہر کے پاس چلی آئی۔ اس کےبعد نومبر 2025 کی بات ہے کہ ہمارے تعلقات پھر سے خراب ہو گئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ شوہر کا کوئی کام نہیں تھا اور یہ اپنی محرومیوں کا غصہ مجھ پر تشدد کر کے نکالتا تھا ۔چنانچہ ایک دن میں نے اپنے شوہر سے مطالبہ کیا کہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی مجھے طلاق دے دو اگر طلاق نہ دی تو میں خود کو کچھ کرلوں گی مجھے آزاد کر دو۔ میرے شوہر اس وقت نارمل اور پر سکون انداز میں میرے سامنے بیٹھے تھے انہوں نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مجھے کہا ۔ “جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی”۔ اس وقت میر ادل گھبراگیا میں نے شوہر سے کہا کہ طلاق تو ایسے نہیں ہوتی میرا نام لے کر طلاق دو تو انہوں نے کہا ہے “فاطمہ میں نے تمہیں طلاق دی “۔ یعنی میر انام لے کر طلاق دے دی۔ میں نے پھر گھبراتے ہوئے کہا کہ طلاق تو لوگوں کے سامنے ہوتی ہے گواہوں کی موجودگی میں تو میرے شوہر کچھ دیر سکون سے سگریٹ پیتے رہے اور پھر پر سکون انداز میں کہا کہ “جاؤ فاطمہ میں نے تمہیں طلاق دی “۔
اس واقعے کے بعد سے میں مسلسل پریشان ہوں تقریبا 6 ماہ گزر چکے ہیں میں اس گھر میں اسی شخص کے ساتھ رہ ر ہی ہوں۔ آپ مفتیان کرام سے گزارش ہے مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ میرا اس شخص سے ازدواجی رشتہ باقی ہے یا نہیں بالکل ختم ہو گیا یا صلح کی ،رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے ؟۔ میں نے امام مسجد سے پوچھا بھی تھا انہوں کہا کہ گنجائش ہے لیکن میرے دل کو بالکل تسلی نہیں ہے۔
شوہر سے فون پر اس کا بیان لیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا ۔
شو ہر کا بیان :
2018 کے واقعہ میں میری بیوی کے گھر والے بھی موجود تھے ۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں طلاق دے دوں گا ۔ اس کے بعد 2025 کے واقعہ میں ہماری بہت لڑائی ہوئی تھی ۔ پوری رات یہ مجھ سے ضد کرتی رہی کہ مجھے طلاق دے دو مجھے چھوڑدو ۔ لیکن میں اس فیصلہ پر بالکل آمادہ نہیں تھا کیونکہ اس کا اور بچوں کا مستقبل میرے سامنے تھا ۔ لیکن صبح کے قریب اس کے اصرار پر تنگ آکر میں نے تین مرتبہ طلاق دی تھی ۔ اس کے بعد میں نے جامعہ نظامیہ کے مفتی صاحب سے پوچھا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اکٹھے رہنے کی گنجائش ہے آئندہ احتیاط کریں ۔آپ میرے لیے گنجائش نکال دیں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے ۔
بیوی نے اس بیان پر درج ذیل وضاحت دی :
2018 کے واقعہ میں میری والدہ موجود تھیں انہوں نے یہی کہا تھا کہ ” جا میں نے تجھے طلاق دی ” اس پر میری امی نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ ایسا نہیں بولتے ۔ 2025 کے واقعہ میں بھی ایسے ہی ہوا جو میں نے بتایا ہے مجھے بالکل اچھی طرح یاد ہے۔ بلکہ اس کے فورا بعد ہی کچن میں جا کر میں نے ان سے پوچھا : “زید تم نے سچی مچی مجھے طلاق دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا جو ہونا تھا ہوگیا جا چلی جا دفع ہوجا “۔ اگلے ہی دن میں نے اپنے گھر اور دفتر کے کئی لوگوں سے ذکر کیا تھا کہ میرے شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں ۔اور اس کے بعد دو تین ہفتے تک ہم الگ کمرے میں رہے ۔ انہوں نے بچوں سے بھی پوچھا کہ ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے آپ نے ماما کے پاس رہنا ہے یا پاپا کے ساتھ ! ۔پھر دو ہفتے بعد یہ کہیں سے فتوی پوچھ کر آگئے کہ چونکہ شوہر کی نیت نہیں تھی اس نے بیوی کے اصرار پر یہ کیا ہے اس لیے صلح کی جاسکتی ہے اور ہم نے نماز توبہ بھی ادا کی ۔ اس واقعہ کو اگرچہ کئی ماہ ہوچکے ہیں ۔ لیکن مجھے سب یاد ہے۔ لیکن میرے دل میں سکون نہیں ہے کہ ہم اکٹھے رہ کر کہیں گناہ تو نہیں کررہے ۔ اس لیے میں نے آپ سے پوچھا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
طلاق چاہے شوہر بیوی کے اصرار پر دے یا خود سے دے طلاق واقع ہوجاتی ہے نیز طلاق کے صریح الفاظ کہتے وقت نیت کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کے بعد اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے ۔اس لیے آپ دونوں کے لیے اکٹھے رہنا جائز نہیں ہے ۔ فورا ً علیحدہ ہونا لازم ہے ۔اور طلاق کے بعد چھ مہینے تک جو اکٹھے رہے ہیں اس پر دل سے توبہ و استغفار لازم ہے ۔
ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنه فجاءه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثاً فسكت حتى ظننت أنه سيردها إليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الأحموقة ثم يقول يا ابن عباس یا ابن عباس يا ابن عباس إن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و انك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجاً عصيت ربك و بانت منك امرأتك.
ترجمہ: مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ( بیٹھا) تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے؟ اس پر ) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے ، پھر انہوں نے فرمایا: تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے (اور تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اے ابن عباس! اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! (کوئی راہ نکالیے ) کی دہائی دینے لگتا ہے۔ بے شک اللہ کا فرمان ہے: ” ومن یتق الله يجعل له مخرجا ” (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں) تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا ( اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے ) تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر ) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر قال … أما أنت طلقتها ثلاثاً فقد عصيت ربك فيها أمر من طلاق امرأتك و بانت منك.
ترجمہ:نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ( اکٹھی تین طلاق دینے والے سے) کہا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے (طلاق مغلظ کے ساتھ ) جدا ہو گئی ہے۔
در مختار مع رد المحتار (509/4) میں ہے:
(فروع) كرر لفظ الطلاق وقع الكل قوله: (كرر لفظ الطلاق بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قدطلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
الدر المختار مع الرد(4/528)میں ہے:
(الصريح يلحق الصريح و)يلحق(البائن)بشرط العدة.
فتاوی ہندیہ(2/411) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved