- فتوی نمبر: 37-54
- تاریخ: 13 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
1۔تخلیل لحیہ(داڑھی کا خلال کرنا) کی جو سنت ہےیہ گھنی داڑھی کے ساتھ خاص ہےیا ہلکی داڑھی کی بھی سنت ہے؟کچھ کتب مثلا ً “اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب،ہدایہ” وغیرہ میں مطلق لکھا ہے،جب کہ کچھ کتب” نورالایضاح ، عمدۃ الفقہ” وغیرہ میں گنجان داڑھی کی قید مذکور ہے۔
2۔ نیز بظاہر احادیث میں بھی مطلق خلال مذکور ہے تو کیا گنجان داڑھی کا ہی خلال کرنا سنت ہےیا مطلق ہے؟اگر گنجان داڑھی کا ہی خلال سنت ہے تو اس کی وجہ اور احادیث کی کیاتوجیہ ہے؟ اگر احایث مقید ہیں تو دلیل مطلوب ہے؟
3۔اگر تمام داڑھی کو دھو لیا جائے تو کیا اس وقت بھی داڑھی کا خلال کرنا سنت ہے؟اگر نہیں، تو احادیث مطلق ہیں اس کا جواب کیا ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔گھنی داڑھی کا خلال سنت ہے نہ کہ ہلکی داڑھی کا ۔
2۔گنجان داڑھی کا خلال سنت ہے ہلکی داڑھی کا نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ داڑھی کے خلال کی سنیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی احادیث سے ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک گنجان تھی ۔
3۔داڑھی ہلکی ہو تو چونکہ تمام بالوں کو دھونا ضروری ہوتا ہے اس لیے دھونے کے بعد مزید خلال کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ داڑھی گھنی ہو تو چونکہ صرف چہرے کی حدود کے اندر ظاہری بالوں کو دھونا ضروری ہوتا ہے ، اندر کے بالوں کو دھونا ضروری نہیں ہوتا اس لیے داڑھی گھنی ہونے کی صورت میں خلال کیا جاتا ہے۔اگر اندر کے بال بھی دھولیے جائیں تو اب خلال نہ ہوگا جیسے سر کا مسح ہوتا ہے کہ اگر سر کو گیلا کردیا جائے تو مسح ساقط ہوجاتا ہے۔
ترمذی (1/42) میں ہے:
عن أبي وائل ، عن عثمان بن عفان، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخلل لحيته».
هذا حديث حسن صحيح.
فیض القدیر للمناوی (5/115) میں ہے:
(كان إذا توضأ خلل لحيته بالماء) أي أدخل الماء في خلالها بأصابعه الشريفة. وفيه ندب تخليل اللحية الكثة فإن لحيته الشريفة كانت كثة ومثلها كل شعر لا يجب غسل باطنه قال ابن القيم: ولم يكن يواظب على التخليل
شامی (1/255) میں ہے:
(قوله:: وتخليل اللحية) هو تفريق شعرها من أسفل إلى فوق، بحر، وهو سنة عند أبي يوسف وأبو حنيفة ومحمد يفضلانه ورجح في المبسوط قول أبي يوسف كما في البرهان شرنبلالية. وفي شرح المنية: والأدلة ترجحه وهو الصحيح. قال في الحلية: والظاهر أن هذا كله في الكثة، أما الخفيفة فيجب إيصال الماء إلى ما تحتها.
حلیہ ، لابن امیر حاج (1/64) میں ہے:
(وتخليلها) أي تخليل اللحية قلت والظاهر أن هذا كله انما هو في اللحية الكثة أما الخفيفة التي تبدو بشرتها فيجب ايصال الماء الى ما تحتها كما قدمناه………… ومما يدل عليه حديث عثمان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخلل لحيته ……… وصح من حديث جماعة ان لحيته الكريمة كانت كثة أي غزيرة الشعر……….. والتخليل بعد التثليث
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/7) میں ہے:
داڑھی اگر اتنی گھنی ہو کہ اس کے اندر سے جلد نظر نہ آئے تو اس کو اوپر سے دھونا فرض ہے اور اس کا خلال کرنا سنت ہے اور اگر ہلکی ہو تو پوری داڑھی کو پانی سے ترک کرنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved