- فتوی نمبر: 37-60
- تاریخ: 13 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میں اپنے ازدواجی معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔ براہِ کرم میری مکمل صورتِ حال پڑھ کر بتائیں کہ ہمارے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا میرے شوہر کے ساتھ دوبارہ رہنے کی کوئی شرعی گنجائش ہے؟
میری شادی شدہ زندگی میں شوہر کے ساتھ کئی مرتبہ شدید جھگڑے ہوئے۔ میرے شوہر نے مختلف مواقع پر غصے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے ہیں، لیکن مجھے تمام الفاظ اور تعداد صحیح طرح یاد نہیں۔
تقریباً ایک سال پہلے میرے شوہر نے مجھے طلاق دینے کی بات کی اور طلاق کے الفاظ کہے تھے، لیکن مجھے نہ صحیح الفاظ یاد ہیں اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس وقت کتنی طلاقیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ہم ساتھ رہتے رہے اور عدت کے اندر ہی ہمارا رجوع ہوگیا اور میں حاملہ ہوگئی۔
حمل کے تقریباً آٹھویں مہینے میں ہمارے درمیان بہت شدید لڑائی ہوئی۔ میرے شوہر بہت زیادہ غصے میں تھے اور انہوں نے مجھے دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے۔ بعد میں انہیں بھی یاد نہیں تھا کہ انہوں نے غصے میں کیا الفاظ کہے تھے۔ اس کے بعد ہمارا رجوع نہیں ہوا۔
اس کے بعد میری بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹی کی پیدائش کے تقریباً 15 دن بعد، جب میں نفاس/ناپاکی کی حالت میں تھی، میرے شوہر نے غصے میں مجھے ایک مرتبہ پھر طلاق کے الفاظ کہے۔اس کے تقریباً 40 دن بعد ہمارا رجوع ہوگیا اور ہم دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔
اس کے بعد بھی ہمارے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں اور تقریباً چھ ماہ سے میں اپنی والدہ کے گھر رہ رہی ہوں۔ ہمارے درمیان ازدواجی تعلق بھی نہیں ہے۔میں نے ایک جگہ سے فتویٰ لیا تھا اور وہاں مجھے یہ بتایا گیا کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ نہ رہوں۔ لیکن میرے دو چھوٹے بچے ہیں، ایک تقریباً چار سال کا بیٹا اور ایک چھوٹی بیٹی۔ میں اپنے والدین اور بھائی بھابھی کے ساتھ رہ رہی ہوں اور میرے لیے یہ زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے۔
براہِ کرم درج ذیل سوالات کے واضح جوابات بتا دیں کہ:
1۔میرے شوہر کی دی ہوئی تمام طلاقوں میں شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
2۔حمل کے دوران دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟
3۔نفاس کی حالت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟
4۔غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟ جبکہ شوہر کو بعد میں الفاظ یا واقعہ صحیح طرح یاد نہ ہو۔
5۔جو رجوع تقریباً 40 دن بعد ہوا، کیا وہ شرعاً درست تھا؟
6۔اس وقت ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہوچکا ہے؟اگر نکاح ختم ہوچکا ہے تو کیا دوبارہ شوہر سے نکاح کی کوئی شرعی صورت موجود ہے؟اگر تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں تو کیا ہم دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں؟
براہِ کرم ایسا شرعی حل بتائیں جس میں کسی غیر شرعی یا پہلے سے طے شدہ حلالہ کی ضرورت نہ ہو۔میں چاہتی ہوں کہ اس مسئلے کا فیصلہ مکمل شرعی اصول کے مطابق ہو، کیونکہ میرے دو چھوٹے بچے ہیں اور میں بہت پریشان ہوں۔ اگر ضروری ہو تو میں اپنے شوہر سے بھی طلاق کے عین الفاظ اور ہر واقعے کی مزید تفصیل معلوم کرکے فراہم کرسکتی ہوں۔
وضاحت مطلو ب ہے:1۔ طلاق کا واقعہ کتنی مرتبہ پیش آیا ہے اور ہر مرتبہ آپ کے غالب گمان کے مطابق کیا الفاظ بولے تھے اور کتنی مرتبہ بولے تھے اور اس کے کتنی دیر بعد ہر واقعہ میں صلح ہوئی؟2۔شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔
جواب وضاحت:1۔ طلاق کے واقعات کے بارے میں میری یادداشت اور غالب گمان کے مطابق وضاحت یہ ہے کہ تقریباً ایک سال پہلے میرے شوہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے ایک مرتبہ طلاق دی تھی۔ لیکن میں نے خود طلاق کے الفاظ نہیں سنے تھے اور مجھے اس واقعے کے الفاظ یا طریقہ یاد نہیں۔ بعد میں عدت کے اندر ہی ہمارا رجوع ہوگیا تھا۔
اس کے بعد جب میں تقریباً 8 ماہ کی حاملہ تھی، میرے شوہر نے طلاق کے الفاظ کہے۔ مجھے جہاں تک یاد ہے، انہوں نے “طلاق ہے، طلاق ہے” کہا تھا، یعنی دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے۔ اس وقت ان کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی اور بعد میں انہیں خود بھی یاد نہیں تھا کہ انہوں نے کیا الفاظ کہے اور کتنی مرتبہ کہے تھے۔ اس واقعے کے بعد ہمارا رجوع نہیں ہوا تھا۔
اس کے بعد میری بیٹی پیدا ہوئی۔ بچی کی پیدائش کے تقریباً 15 دن بعد، جب میں نفاس کی حالت میں تھی، میرے شوہر نے دوبارہ ایک مرتبہ طلاق کا لفظ کہا تھا۔ اس کے بعد ہمارا رجوع ہوگیا تھا۔میں نے یہ تمام تفصیل اپنی یادداشت اور غالب گمان کے مطابق بیان کی ہے۔ جہاں مجھے خود واقعہ یا الفاظ یاد نہیں، وہاں میں نے اندازے سے کوئی بات بیان نہیں کی۔2۔شوہر کا رابطہ نمبر: ******
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ پہلی مرتبہ میں نے اسے ’’تجھے طلاق ہے‘‘ کے الفاظ سے طلاق دی ہے، اور دوسری مرتبہ میں نے غصے کی حالت میں اسے طلاق دی ہے، طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ ’’طلاق ہے، طلاق ہے‘‘، لیکن میرا غصہ نارمل تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے، لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
2۔حمل کے دوران دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
3۔نفاس کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
4۔مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر کا غصہ نارمل تھا، اس لیے اس صورت میں دی گئی طلاق واقع ہو چکی ہے۔
5۔تین طلاقوں کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی تھی اس لیے رجوع صحیح نہیں تھا۔
6۔نکاح شرعاً ختم ہو چکا ہے اور حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے، لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ شوہر کو علم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور نہ ہی شوہر سے کوئی خلافِ عادت قول یا فعل صادر ہوا ہے، اور غصے کی ایسی کیفیت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر نے پہلی دفعہ جب ’’تجھے طلاق دی‘‘ کہہ کر ایک طلاق دی تو ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی اس کے بعد چونکہ عدت کے اندر رجوع بھی ہو چکاتھا اس لیے نکاح باقی رہا اور شوہر کو مزید دو طلاق دینے کا اختیار باقی تھا۔ اس کے تقریباً سات، آٹھ ماہ بعد پھر شوہر نے اسے ’’طلاق ہے، طلاق ہے‘‘ کہہ کر دو طلاقیں دیں، تو اس طرح تین طلاقیں مکمل ہو گئیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی۔
در مختار مع رد المحتار(4/439) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله. اه
(وبعد أسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
درمختار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
(قوله: وان نوى التاكيد دين) أى وقع الكل قضاء
وفيه أيضا: (وحل طلاقهن) أى الآيسة والصغيرة والحامل
الجوہرۃ النیرۃ (2/31) میں ہے:
وكذا الطلاق في حالة الحيض مكروه لما فيه من تطويل العدة على المرأة، وكذا في النفاس أيضا
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved