• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد کا پرانا قالین ذاتی استعمال کے لیے خریدنا

استفتاء

ہمارے یہاں ایک اہل حدیث  کی مسجد ہے اور اس مسجد کی انتظامیہ نے اس کا قالین جو کہ قابل استعمال  ہے  ضائع کرنے کے لیے اوپر مسجد کی چھت  پر رکھ دیا ہے جس کے اوپر بارش وغیرہ بھی ہوتی رہی ہے ۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ ہم نے اب استعمال نہیں کرنا بس یہ فالتو ہے ۔ اس کو ہم بیچنا چاہتے ہیں۔ تو میں نے وہ قالین جو کہ دھل کر صحیح استعمال کے قابل ہے تین ہزار روپے میں خرید لیا  ہے ۔   کیا میرے لیے  اسے لینا جائز ہے ؟ جبکہ وہ ایک سال سے اسی طرح پڑا تھا ۔ میں نہ لیتا تو مسجد کا منتظم اسے ضائع کردیتا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ  کا یہ قالین  ذاتی استعمال کے لیے مسجد سے   خریدنا جائز ہے ۔

توجیہ :  مسجد کی کوئی چیز اگر مسجد کی   ضرورت سے زائد ہو اور اس کے ضائع ہونے کا خطرہ  ہو تو قیمتا ً اس کو کسی دوسری مسجد میں بھی دیا جاسکتا ہے اور کوئی  شخص اپنے ذاتی استعمال کے لیے بھی اسے   بازاری قیمت پر مسجد سے خرید سکتا ہے۔

الاسعاف (ص225)میں ہے :

ولوبسط من ماله حصيرا في المسجد فخرب المسجد واستغني عنها فانها تكون له ان كان حيا ولورثته ان كان ميتا عند محمد رحمه الله وان بليت كان له ان يبيعها ويشتري بثمنها حصيرا أخرى وعند ابي يوسف يباع ويصرف ثمنه في حوائج المسجد وان استغني عنه هذا المسجد يحول الى مسجد آخر وهذاالاختلاف بناء على الاختلاف في المسجد عينه اذا استغني عنه لخراب ما حوله

فتاوی رشیدیہ (ص339) میں ہے :

سوال: مسجد کی اشیاء جو بالکل خراب قابل پھینکنے کے ہوں ان کو اپنے کام میں لے آوے یا نہیں؟

جواب: مسجد کی کسی شے کو اپنے ذاتی کام میں نہ لاوے نہ اپنے گھر لے جاوے البتہ اگر وہ بیکار ہوگئی ہو تو اس کی قیمت کرالے اور متولی مسجد سے خرید کر پھر اپنے کام میں لے آوے۔ فقط

کفایت المفتی (7/244) میں ہے:

مسجد کی کوئی چیز مثلاً پتھر، لکڑی وغیرہ بالکل نکمی پڑی ہوئی ہو اور کام میں نہ آسکتی ہو تو اس کو بیچ کروہ پیسے مسجد میں لگاسکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب : مسجد سے نکلی ہوئی اشیاء اور اسباب جو مسجد کے کام میں نہ آسکے فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد میں انہیں اشیاء کے مثل کام میں خرچ کردی جائے تو جائز ہے۔ ونقضه یصرف الی عمارته  والا بیع وصرف ثمنه .

امدادالاحکام (1/492) میں ہے :

سوال:  قربانی کے گوشت کی وجہ سے ہرسال کے لیے ایک بوریا نیا خریدکیاجاتا ہے، اور اس کا استعمال اس طرح پر ہوتا ہے کہ محلہ کی مسجد کے پرانے اور بوسیدہ بوریئے گوشت کے کام میں لائے جاتے ہیں، اور نئے بوریئے مسجد میں ڈال دیئے جاتے ہیں، بعض لوگ اس عمل کو بھی ناجائز بتاتے ہیں، امید ہے کہ جناب والا دونوں باتوں کے شرعی حکم سے مشرف فرمائیں گے

الجواب:  قربانی کے لیے مسجد کا پرانا بوریا جس طرح عام طور پر استعمال کیاجاتا ہے ، استعمال کرناجائز نہیں، بلکہ اس کی صورت یہ ہوناچاہیے کہ پرانے بوریئے کو متولی یا مہتمم مسجد سے نئے بوریئے کے عوض خریدلیاجائے، خریدنے کے بعد وہ پرانا بوریا تمہاری ملکیت ہوجائے گا اور ملک مسجد سے نکل جائے گا اور قبل اشتراء کے وہ ملک مسجد میں ہے اور ملک مسجد کو اپنے ذاتی تصرفات میں لاناجائز نہیں، واللہ اعلم ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved