• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

5 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

مفتی  صاحب میرے  والد صاحب کا انتقال ہوا، والدہ کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوگیا تھا ، والد صاحب کے والدین کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوگیا تھا اور والدہ کے والدین کا انتقال بھی پہلے ہوگیا تھا۔ والد صاحب  کے ترکہ میں  زمین ہے جس کا ریٹ 85 لاکھ روپے ہے۔ ورثاء میں  5 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ سوال یہ ہے   کہ وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکہ کے 13 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو، دو  حصے(15.38 فیصد فی کس) ہر ایک بیٹے کو اور ایک، ایک  حصہ(7.69 فیصد فی کس) ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

اس حساب سے مرحوم کے کل ترکہ میں سے تیرہ لاکھ سات ہزار  چھ سو بانوے (13,07,692.31) روپے  ہر ایک بیٹے کو اور  چھ  لاکھ  تریپن ہزار آٹھ سو چھالیس  (6,53,846.154) روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم درج  ذیل ہے:

13

5 بیٹے3 بیٹیاں
2+2+2+2+21+1+1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved