• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مصنوعی رنگ والی چائے بیچنے کا حکم

استفتاء

کیا  مصنوعی رنگ  والی  چائے بیچنا جائز ہے؟

عرف عام میں اس کام کو غلط  تصور کیا جاتا ہے  جو لوگ یہ کام کرتے ہیں  ان کی دلیل یہ  ہے کہ  آپ مٹھائی، جوس ، بوتل میں بھی رنگ استعمال کرتے ہیں   حالانکہ میرے خیال میں  ان چیزوں  کا اطلاق چائے پر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس طرح ایک نمبر اور دو نمبر چیز کا معاملہ مشکل ہوجاتا ہے۔ وضاحت فرمائیں

نوٹ: ہمارے دارالافتاء کے مفتی ***صاحب نے پتی بیچنے والوں سے  معلوم کیا ہے تو  بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ  رنگ والی چائے بیچنا عام  تو ہے  البتہ دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی طرح اتنا عام  اور مشہور نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مصنوعی رنگ والی چائے بیچنا جائز نہیں البتہ اگر لوگوں کو عام معلوم ہو کہ یہ مصنوعی رنگ والی چائے ہے یا بیچنے والا بتادے کہ یہ مصنوعی  رنگ والی چائے ہے تو پھر بیچنا جائز ہے نیز بتانے کے باوجود خریدنے والے کے بارے میں اگر غالب گمان  یہ ہو کہ  یہ آگے بغیر بتائے بیچے گا تو ایسے شخص کو بتاکر بیچنا بھی  درست نہیں۔

مرقاۃ المفاتیح (رقم الحدیث:2860) میں ہے:

«(وعنه) أي عن أبي هريرة (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام) بضم الصاد المهملة وسكون الموحدة ما جمع من الطعام بلا كيل ووزن على ما في القاموس والمراد بالطعام جنس الحبوب المأكول (فأدخل يده فيها) أي في الصبرة (فنالت أصابعه) أي أدركت (بللا) بفتح الموحدة واللام (فقال ما هذا) أي البلل المنبئ غالبا على الغش من غيره (يا صاحب الطعام) أي بائعه (قال أصابته السماء) أي المطر لأنها مكانه وهو نازل منها قال الشاعر: إذا نزل السماء بأرض قوم … رعيناه وإن كانوا غضابا (يا رسول الله) اعتراف بالإيمان وإقرار بالإذعان (قال أفلا جعلته) قال أسترت عينه أفلا جعلت البلل (فوق الطعام حتى يراه الناس) فيه إيذان بأن للمحتسب أن يمتحن بضائع السوقة ليعرف المشتمل منها على الغش من غيره. (من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي.»

ہندیہ (3/116) میں ہے:

ويجوز ‌بيع ‌البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ذكر المسألة في إجارات الأصل من غير تفصيل وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر قال شيخ الإسلام – رحمه الله تعالى – ما ذكر من الإطلاق في الأصل محمول على التفصيل المذكور في السير كذا في الذخيرة

شامی (5/47) میں ہے:

لا يحل ‌كتمان ‌العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام

(قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ

امداد الفتاوی (3/133)میں ہے:

سوال:   گھی ، عنبر، مشک وغیرہ مصنوعی تیار کیا جاوے اوریہ کہہ کر یہ اصلی نہیں مصنوعی ہے کم قیمت پر اس کو فروخت کیا جاوے کیا یہ بھی دھوکہ وخداع وناجائز ہے یانہیں ؟

الجواب:یہ دھوکہ نہیں ہے جائز ہے  البتہ ورع کے خلاف اس لئے ہے کہ مشتری سے خداع کا احتمال ہے، اور اس کی بیع ایک درجہ میں اس کا سبب ہے۔ (حوادث اول وثانی ص ۲۱)(لہذا جہاں  معلوم ہو کہ دکاندار  آگے دھوکہ دے گا وہاں جائز نہ ہوگا  کیونکہ وہاں صرف احتمال نہیں ہے بلکہ معلوم  ہے۔از ناقل )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved