• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جس راستے سے سفر کیا ہے اسی راستے کی مسافت کا اعتبار ہے

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک علاقے میں جانا ہے اور سیدھے اپنے گھر سے جائیں تو تقریباً 77 کلومیٹر بنتا ہے لیکن جس گھر سے اکھٹے ہوکر جانا ہے تو زیادہ مسافت بن جاتی ہے ،اب ہم مسافر بننے کے لیے کس مسافت کا اعتبار کریں؟

وضاحت مطلوب (1)آپ کا گھر اور جس گھر میں اکھٹا ہونا تھا ایک آبادی کے اندر ہیں یا الگ الگ آبادیوں میں ہیں؟(2)جس گھر  میں اکھٹے ہوکر جانا تھا اس جگہ کی آبادی جہاں ختم ہوتی ہے اور جس جگہ جانا تھا اس کی آبادی جہاں سے شروع ہوتی ہے ان دونوں آبادیوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟

جوابِ وضاحت(1،2)الگ الگ آبادی ہے جہاں جانا تھا وہ بھی الگ آبادی ہے ،اگر سیدھا جائیں تو 77کلومیٹر بنتا ہے اور اگر دوسرے گھر سے جائیں جہاں جمع ہونا تھا  تو وہاں سے آگے 70 کلومیٹر بنتا ہے  اور یہ گھر ہمارے گھر  سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مزید تنقیح:مذکورہ بالا نقشہ کے مطابق نمبر(1)پر ہمارا گھر ہے ،نمبر(2)پر جمع ہونا تھا اورنمبر(3)پر جانا تھا،نمبر (1)سے نکلتے وقت نمبر(3)پر ہی جانے کی نیت تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ مسافر بننے کے لیے جس راستے سے جارہے ہیں اسی راستے کی مسافت کا اعتبار کریں گے۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں اگرچہ پہلے آپ نے ایک جگہ جمع ہونا تھا  لیکن چونکہ اپنے گھر کی آبادی سے نکلتے وقت آگے جانے کی ہی نیت تھی  اس لیے اس کا اعتبار نہیں ،جس جگہ جانے کی نیت تھی اس کا اعتبار ہوگا اور اس جگہ جس راستے سے جارہے ہیں اسی راستے کی مسافت کا اعتبار ہوگا لہذا آپ کے گھر کی آبادی  سے اور جہاں آپ نے جانا ہے وہاں تک چونکہ شرعی مسافت بنتی ہے اس لیے اگر آپ کی نیت پندرہ دن سے کم ہے تو آپ قصر نماز پڑھیں گے ۔

ہندیہ (1/ 138)میں ہے:

وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق.

شامی (2/ 726)میں ہے:

ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني.

وفى الشامية: (قوله قصر في الأول) أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح خلافا للشافعي كما في البدائع.

فتاوٰی دارالعلوم دیوبند(4/544)میں ہے:

سوال: ایک شخص ایک جگہ سے سفر کرے اور جس جگہ جائے اس کے دو راستے ہیں، ایک راستے سے مسافت قصر ہے، اور دوسرے راستے کی مسافت کم ہے، پس اگر یہ شخص اُس جگہ اس راستے سے جائے جو مسافت قصر ہے تو اس کو قصر ِصلاۃ جائز ہوگا یا نہیں؟ یعنی جوازِ قصر کے لیے ان دونوں مسافتوں میں کونسی مسافت کا اعتبار ہوگا ؟ جس راستے کو چلا اس کا یا اقلِ مسافت کا؟ اور مسافت قصر کتنی ہے؟

الجواب: جس راستے سے سفر کیا اس راستے کی مسافت کا قصر و عدمِ قصر ِنماز میں اعتبار ہے، اگر اس راستے سے جس کو چلا تین منزل یعنی ۳۶ ( چھتیں) کوس یا ۴۸ ( اڑتالیس) میل، اس مسافت پر قصر لازم ہے، اگرچہ دوسرے راستے کو وہ اس سے کم ہو ۔فقط واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved