• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ذوی الفروض کے نہ ہو نے کی صورت میں بھتیجے ، بھتیجیوں ،بھانجے اور بھانجیوں میں تقسیم میراث کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب !   ہماری پھوپھو صاحبہ ( فاطمہ ) کا انتقال ہو گیا ہے ، انکی کوئی اولاد نہیں ہے ۔اور مرحومہ کے والدین مرحومہ کی  زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے ۔اسی طرح مرحومہ کے تما م بہن بھائی ( جن کی تعداد 11ہے7بھائی 4بہنیں ) بھی مرحومہ سے پہلے فوت ہو گئے تھے البتہ انکی اولادیں زندہ ہیں جنکی تفصیل یہ ہے کہ مرحومہ کےپہلے بھائی زید کے صرف 3بیٹے ہیں ۔ دوسرے بھائی خالد  کے 4بیٹے 1 بیٹی ہیں ،تیسرے بھائی بکر   کا 1 بیٹا 1 بیٹی ہے ، چوتھے  بھائی عمر کی کو ئی اولاد نہیں ہے ، ا ور پانچویں بھائی ضیاء  کے 2بیٹے   2  بیٹیاں ہیں ،چھٹے بھائی واجد  کا صرف 1 ہی بیٹا ہے ،  ساتویں بھائی عبداللہ کے 3 بیٹے ہیں ۔ جبکہ مرحومہ  کی 4بہنوں میں سے  پہلی بہن  پھوپھو خدیجہ کی ایک  بیٹی ہے ۔جبکہ دوسری بہن پھوپھو کلثوم کا 1بیٹا 1 بیٹی ہے ، تیسری بہن پھوپھو زینب کا بھی 1بیٹا 1 بیٹی ہے  اور چوتھی بہن پھوپھو   حفصہ  کا بھی 1بیٹا 1 بیٹی ہے۔ ایسے میں پھو پھو  فاطمہ  کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ کا کیا ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحومہ (فاطمہ) کے کل ترکہ کے 14حصے کیے جائیں گے جو کہ مرحومہ ( فاطمہ) کے 7بھائیوں کے صرف  14 بیٹوں(یعنی مرحومہ کے بھتیجوں ) میں برابر تقسیم کیے جائیں گے اور ان میں سے  ہر ایک کو ایک، ایک  حصہ ( 7.142فیصد  ) ملے گا۔ جبکہ مرحومہ کی بھتیجیوں اور بھانجے  بھانجیوں کا مرحومہ کی وراثت  میں  شرعاً کوئی حصہ نہ ہو گا۔

توجیہ: میت کے  ترکہ میں سب سے پہلا حق ذوی الفروض کا ،پھر عصبات کا ،پھر ذوی الارحام  کا ہے ۔ اور مذکورہ  صورت میں چونکہ مرحومہ( فاطمہ) کے ذوی الفروض مرحومہ کی زندگی میں ہی وفات پا گئے  تھے لہذا اب مرحومہ کی وراثت  ان کے عصبا ت میں تقسم ہو گی  جوکہ مذکورہ صورت میں مرحومہ کے بھائیو ں کے بیٹے ہیں اور عصبات کی موجودگی میں چونکہ ذوی الارحام محروم ہو تے ہیں  لہذا مذکورہ صورت میں مرحومہ (فاطمہ) کی بھتیجیاں ،بھانجے اور بھانجیاں  مرحومہ کی وراثت سے محروم ہوں گے ۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

14

14 بھتیجے4 بھتیجیاں3 بھانجے4 بھانجیاں
عصبہمحروممحروممحروم
14
1+1+1+1+1+1+1

1+1+1+1+1+1+1

مجمع الانہر(2/765)میں ہے :

(ذو الرحم) هو في اللغة بمعنى القرابة مطلقا.

وفي الشريعة (قريب ليس بعصبة ولا ذي سهم) مقدر في كتاب الله تعالى أو سنة رسوله أو إجماع الأمة (ويرث) ذو الرحم (كما ترث العصبة عند عدم ذي السهم) وعدم العصبة إلا إذا كان ذو السهم أحد الزوجين فيرث معه بعد أخذ فرضه لعدم الرد عليه، وإنما قيدنا بعدم العصبة؛ لأنه لا يكفي بعدم ذي السهم

سراجی (ص:11) میں ہے :

تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة، الاول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير ….. فيبدأ بأصحاب الفرائض وهو الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم العصبات من جهة النسب ….. ثم بالعصبة من جهة وهو مولى العتاقة ثم عصبة على الترتيب ثم الرد ذوالفروض النسبية بقدر حقوقهم ثم ذوي الارحام ثم مولى الموالاة

سراجی                (ص53) میں ہے:

أما العصبة بنفسه: …… وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، الأقرب فالأقرب

سراجی                (ص54) میں ہے:

ثم جزء أبيه أى الإخوة ثم بنوهم وإن سفلو ثم جزء جده أى الأعمام ثم بنوهم وان سفلو

فتاوی ہندیہ                 (461/6) میں ہے:

   (الباب العاشر في ذوي الأرحام) وذوو الأرحام كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة وهم كالعصبات من انفرد منهم أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار وذوو الأرحام أربعة أصناف:)……والصنف الثالث (وهو ثلاثة أنواع: الأول بنات الإخوة وأولاد الأخوات لأب وأم وأولادهم. والثاني بنات الإخوة وأولاد الأخوات لأب وأولادهم. والثالث  أولاد الإخوة والأخوات لأم وأولادهم.

در مختار                  (791/6) میں ہے:

باب توريث ذوي الأرحام (هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة) فهو قسم ثالث حينئذ (ولا يرث مع ذي سهم ولا عصبة سوى الزوجين) لعدم الرد عليهما.

ردالمحتار                  (6/769) میں ہے:

   بيانه: أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث.    

الدر المختار              مع رد المحتار     (783/6) میں ہے:

   قاله المصنف في شرحه قلت: وفي إطلاقه نظر ظاهر لتصريحهم بأن ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام …….

(قوله: لتصريحهم إلخ)  حاصله كما في السراجية والملتقى أن من لا فرض لها من الإناث وأخوها عصبة لا تصير عصبة بأخيها وقدمناه منظوما

(قوله: لأنها من ذوي الأرحام) أي الأخت في هذه الصور.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved