- فتوی نمبر: 37-85
- تاریخ: 31 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میری بیوی نے چوری کی ، میں نے اپنے سسر کو فون کیا کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور آپ کی بیٹی کی جو چوری والی عادت ہے اسے ختم کرنے کے لیے اس کو سمجھائیں، میں ابھی فون کر ہی رہا تھا کہ میرے ابو نے میرے ہاتھ سے فون لے لیا اور میرے سسر سے باتیں کرنے لگے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میرے سسر کو میرے گھر تشریف لانے سے منع کردیا میں نے والد صاحب سے کئی مرتبہ عرض کی کہ سسر کو آنے دو لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی، مجھے اپنے والد صاحب پر غصہ آیا اور میں نےاپنے والد صاحب کے سامنے کہا کہ”ابو سن تین طلاق، تین طلاق، تین طلاق” جبکہ اس وقت میرا غصہ اپنے والد پر تھا نہ کہ بیوی پر، اور نہ میرا ان الفاظ سے بیوی کو طلاق دینا مقصود تھا اور میری بیوی تقریبا وہاں سے کافی فاصلہ پر تھی اور نہ ہی اس نے یہ الفاظ سنے تھے اور نہ ہی اس کو معلوم تھا کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے، لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی بیوی کی طرف صریح اضافت ہونا ضروری ہے، بلکہ معنوی اضافت بھی کافی ہے۔ مذکورہ صورت میں جھگڑے کا سبب چونکہ بیوی تھی اور طلاق بیوی کو ہی دی جاتی ہے، لہٰذا قرینۂ حالیہ سےاضافتِ معنوی پر دلالت ہونےکی وجہ سے مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔
شامی (4 /444 ) میں ہے:
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اه ………. ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اه. ويفهم منه أنه لو يقل ذلك تطلق امرأته، لان العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه ……….. وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف الخ، فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف
بدائع الصنائع (3/ 187)میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
امداد الفتاوی (5/249) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں،میں نے حالت غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں (طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق) اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی اور نہ اُس کی کوئی خطا ہے یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار (نزاع) یعنی میری منکوحہ کی تائی کے نکلے جس وقت میرا غصہ فرو ہوا فوراً اپنی زوجہ کو لے آیا۔
الجواب : چونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا؛ لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں۔
فتاوی دارالعلوم دیوبند(9/145) میں ہے:
سوال: ایک شخص نے غصہ ہو کر لفظِ طلاق کو تکرار کیا، یعنی تین مرتبہ سے زیادہ بولا، بغیر خطاب کے، تو اس صورت میں اس کی زوجہ پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب: قرینہ یہ ہے کہ اس نے اپنی زوجہ ہی کو طلاق دی ہے، کیونکہ محلِ طلاق وہی ہے، اور فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ عادتاً جس کی زوجہ ہوتی ہے، وہ اسی کی طلاق پر حلف کرتا ہے۔
في الشامية: لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها
اور اس صورت میں چونکہ تین طلاقیں ہوئیں، لہٰذا بغیر حلالہ کے وہ عورت شوہرِ اول کے نکاح میں نہیں آ سکتی۔
فتاویٰ محمودیہ(12/274) میں ہے:
جب بیوی کے حق میں شوہر لفظِ طلاق کہتا ہے تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ جملۂ تامہ، یعنی ’’میں نے تجھ کو طلاق دی‘‘ نہ کہا ہو، مگر مطلب اس کا یہی ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved