- فتوی نمبر: 37-84
- تاریخ: 20 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن عورتوں سے نکاح جائز ہے
استفتاء
مفتی صاحب!زید کا فاطمہ کے ساتھ نکاح ہوا ،جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا ،پھر زید نے عائشہ کے ساتھ دوسری شادی کرلی ، عائشہ کی ایک بہن صائمہ ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کے بیٹے کا اپنی سوتیلی ماں عائشہ کی بہن صائمہ سے نکاح کرنا شرعا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید کے بیٹے کا اپنی سوتیلی ماں (عائشہ)کی بہن (صائمہ)کے ساتھ نکاح کرنا شرعا جائز ہے۔
الاصل للشیبانی (10/185) میں ہے:
ولا بأس بأن يتزوج الرجل المرأة، ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها أو أختها أو عمتها أو خالتها أو ذات رحم محرم منها. وكذلك لا بأس أن يتزوج ذلك أبوه مكان ابنه.
امداد الاحکام(2/248) میں ہے:
سوال:زید کی پہلی اہلیہ سے(جو فوت ہوچکی)ایک بالغ لڑکا موجود ہے ۔کیا زید اپنی موجودہ دوسری منکوحہ کی حقیقی ہمشیرہ سے اپنے فرزندبکر کا عقد کر سکتا ہے؟یعنی بکر کا نکاح اس کی سوتیلی خالہ سے ہوسکتا ہےیا نہیں؟
الجواب: ہاں بکر کا نکاح اس کی سوتیلی خالہ سے جو اس کی سوتیلی ماں کی بہن ہے جائز ہے ۔فإن اخت الموطوءة للاب لیس لها ذکر فی المحرمات.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved