• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ماہ ذوالحجہ میں 110 مرتبہ ذوالنورین پڑھنے کا حکم

استفتاء

غنی، تونگر، دولت مند بننے کا اچانک موقع

یہ عمل روزانہ کسی بھی حالت میں اول وآخر 3 مرتبہ درود شریف کے ساتھ

ذوالنورین

110 مرتبہ مشرق کی طرف منہ کرکے آنکھیں بند کرکے ننگے پاؤں کھڑے ہوکر پڑھیں۔

18 ذوالحجہ سے آخر ذوالحجہ تک روزانہ کسی بھی وقت  لیکن توجہ سے پڑھیں اور پھر قدرت ربی کا کمال جاگتی آنکھوں سے دیکھیں۔

کیا یہ وظیفہ کرنا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ وظیفہ کرنا جائز نہیں ہے۔

توجیہ: اولاً لفظ “ذوالنورین ” پڑھنے  کا   تونگری کی صورت میں اثر ظاہر ہونا    نہ تو قرآن و حدیث میں ذکر ہے  اور  نہ کسی معتبر   عالم کے تجربے سے ثابت ہے لہذا اس کے باوجود اس لفظ کے پڑھنے کو مالدار ہونے میں مؤثر سمجھنا  نص قرآنی ” ولا تقف ما ليس لك به علم ” کے تحت داخل ہو کر منہی عنہ ہے۔ثانیاً اس میں  عوام کے لیے حضرت عثمان غنی ؓ سے استعانت کا شبہ اور ایہام  بھی ہے جبکہ  کسی کا وفات کے بعد مدد کرنا ظاہری اسباب کے خلاف ہے۔ اور جو چیز ظاہری اسباب کے خلاف ہو اس کے دواماً  ثبوت کا عقیدہ نص پر موقوف ہوتا ہے  اور اس بارے میں کوئی نص موجود نہیں کہ حضرت عثمانؓ اپنی وفات کے بعد کسی کی مدد کرسکتے ہیں   اور اگر ثبوت کرامتاً  مانا جائے تو اس کا ہر کسی کے حق میں دواماً ہونا لازم نہیں  کہ حضرت عثمانؓ ہر ایک کی ہمیشہ  مدد کرسکتے ہیں لہٰذا مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر مذکورہ وظیفہ کرنا جائز نہیں۔

معارف القرآن(5/481) میں ہے:

لا تقف ما لیس لک به علم

مقتضی آیت مذکورہ کا یہ ہے کہ یقینی اور قطعی احکام میں تحقیق بھی درجہ اول کی ہو یعنی قطعیت اور یقین کامل کے درجہ کو پہنچ جائے اور جب تک ایسا نہ ہو عقائد اور  اصول اسلام میں اس  تحقیق کا اعتبار نہیں اس کے مقتضی پر عمل جائز نہیں اور ظنی فروعی امور میں دوسرے درجہ یعنی ظن غالب کے درجہ کی تحقیق کافی ہے۔

عملیات و تعویذات کے شرعی احکام (ص:79) میں ہے:

قال الله تعالى ولا تقف ما ليس لك به علم اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح دلیل کے بغیر جس کا صحیح ہونا قواعد شرعیہ سے ثابت ہو کسی امر کا خواہ وہ اخبار ہو  یا انشاء اعتقاد درست نہیں۔

عملیات و تعویذات کے شرعی احکام (68) میں ہے:

جس امر کے ثابت کرنے کا شریعت میں جو طریقہ ہے جب تک اس طریقہ سے وہ امر ثابت نہ ہو اس کا کسی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔

امدادالفتاوی (5/369) میں ہے:

الجواب : جو استعانت و استمد اد بالمخلوق با عتقاد علم و قدرت مستقل مستمد منہ ہو شرک ہے۔ اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو مگر وہ علم و قدرت کسی دلیل صحیح سے ثابت نہ ہو معصیت ہے، اور جو با اعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو اور وہ علم و قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائز ہے، خواہ وہ مستمدمنہ حی ہو یا میت اور جو استمداد بلا اعتقاد علم و قدرت ہو نہ مستقل نہ غیر مستقل، پس اگر طریق استمد اد  مفید ہو تب بھی جائز ہے جیسے استمداد بالنار والماء والواقعات التاریخیہ ، ورنہ لغو ہے۔

امدادالفتاوی (5/86) میں ہے:

اور بعض کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ایسی قدرت مستقلہ تو کسی مخلوق میں نہیں مگر بعض مخلوق کو قرب وقبول کا ایسا درجہ عطا ہوتا ہے کہ یہ اپنے متوسلین کے لئے سفارش کرتے ہیں پھر اس سفارش کے بعد بھی ان کو نفع وضرر کا اختیار نہیں دیا جاتا؛ بلکہ حق تعالیٰ ہی نفع وضرر پہنچاتے؛ لیکن اس سفارش کے قبول میں تخلف کبھی نہیں ہوتا اور اس سفارش کی تحصیل کے لئے اس کے ساتھ بلاواسطہ یا بواسطہ معاملہ مشابہ عبادت کرتے ہیں یہ عقیدہ اعتقاد تاثیر نہیں ہے؛ لیکن بلا دلیل شرعی بلکہ خلاف دلیل شرعی ایسا عقیدہ رکھنا معصیت اعتقادیہ اور مشابہ عبادت معاملہ کرنا معصیت عملیہ ہے اور اسی مشابہت کے سبب اطلاقات شرعیہ میں اس کو مشرک کہدیا جاتا ہے۔

امداد الفتاویٰ (11/563) میں ہے:

الجواب: ایسے خطابات میں تین مرتبے ہیں ، اول ان کو متصرف بالا ستقلال سمجھنا یہ تو صریح شرک ہے، دوم متصرف بالاذن اوران خطابات پر مطلع بالمشیۃ سمجھنا یہ شرک تو کسی حال میں نہیں لیکن یہ کہ اس کا وقوع ہوتا ہے یا نہیں اس میں اکابرامت مختلف ہیں فمنهم المثبت ومنهم النافي لیکن جو مثبت بھی ہیں وہ یہ اجازت نہیں دیتے کہ بعید سے ندا کرو اور نہ بعید سے دواماً سننے کی کوئی دلیل ہے اور بلا دلیل شرعی ایسا اعتقاد رکھنا گو حقیقتاً شرک نہ ہو، مگر معصیت اورکذب حقیقتاً اورشرک صورۃً ہے، معصیت ہونے کی یہ دلیل ہے ولا تقف ما لیس لک بہ علم  اور کذب ہونا اس کی تعریف صادق آنے سے ظاہر ہے  اورشرک صورۃً اس لئے کہ اول اعتقاد والوں کے ساتھ عادت میں تشبّہ ہے اور اگر کسی بزرگ کی حکایت میں بطور کرامت کے ایسا امر منقول ہو، توخرق عادت سے دوام عادت ثابت نہیں ہوتا۔

بواد النوادر (ص:98) میں ہے:

جو عملیات خاص قیدوں کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں اور عامل ان کی دلیل سے زائد مؤثر سمجھ کر گویا اثر کو اپنے قبضہ میں سمجھتا ہے ایسے عملیات طالب حق کی وضع کے خلاف ہیں۔

امداد المفتین(2/215) میں ہے :

سوال  : عملیات میں یوم اور وقت کا تعین منجانب اللہ ہے یا اس کا تعلق کواکب سے ہے اور اس کا لحاظ شرعا کیسا ہے؟

الجواب  : اکثر عملیات میں وقت اور یوم کا تعین منجانب اللہ نہیں بلکہ محض تجربہ کی بنیاد پر لوگوں نے یہ تعینات کئے ہیں اگر ان اوقات و حالاتِ خاصہ کو مؤثر بالذات نہ سمجھے بلکہ ایسا معین سمجھے جیسے دھان مونجی ہونے کے لئے برسات کا موسم متعین کیا جاتا ہے اور کسی کام کے لئے جاڑے کا موسم کسی کے لئے گرمی کا تو ان تعینات میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved