- فتوی نمبر: 37-95
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان
استفتاء
اگر کسی بچے کو پیمپر پہنایا ہوا ہو اور بچے نے اس پیمپر میں بول یا براز بھی کیا ہو لیکن باہر نہ نکلا ہو اور وہ بچہ ماں کی گود میں آجائے اور ماں نماز پڑھ رہی ہو تو کیا نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟اس نماز کا کیا حکم ہوگا ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر وہ بچہ ماں کی گود میں خود رکا ہوا ہو تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر ماں کے روکنے کی وجہ سے ایک رکن کی مقدار (تین مرتبہ سبحان اللہ) رکا ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
توجیہ: اگر بچہ ماں کی گود میں بیٹھ جائے اور خود ٹھہرا ہواہو تو ایسی صورت میں نمازی حامل نجاست نہیں ہوتا لہٰذا مذکورہ صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی۔اور اگر بچہ خود ٹھہرا ہوا نہ ہو بلکہ نمازی کے روکنے سے رکا ہو تو وہ نمازی حامل نجاست سمجھا جائے گا اور حمل نجاست کی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔
ہندیہ (1/63) میں ہے:
إذا وضع في حجر المصلي الصبي الغير المستمك وعليه نجاسة مانعة إن لم يمكث قدر ما أمكنه أداء ركن لا تفسد صلاته وإن مكث تفسد بخلاف ما لو استمسك وإن طال مكثه وكذا الحمامة المتنجسة إذا جلست عليه. هكذا في الخلاصة وفتح القدير.
شامی (1/402) میں ہے:
(هي) ستة (طهارة بدنه) أي جسده لدخول الأطراف في الجسد دون البدن فليحفظ (من حدث) بنوعيه، وقدمه لأنه أغلظ (وخبث) مانع كذلك (وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع وإلا لا
(قوله كصبي) أي وكسقف وظلة وخيمة نجسة تصيب رأسه إذا وقف (قوله إن لم يستمسك) الأولى حذف إن وجوابها لأنه تمثيل للمحمول، فحق التعبير أن يقول كصبي عليه نجس لا يستمسك بنفسه
(قوله وإلا لا) أي وإن كان يستمسك بنفسه لا يمنع لأن حمل النجاسة حينئذ ينسب إليه لا إلى المصلي ……. ويؤيده ما في البحر عن الظهيرية: لو جلس على المصلي صبي ثوبه نجس وهو يستمسك بنفسه أو حمام نجس جازت صلاته لأن الذي على المصلي مستعمل للنجس، فلم يصر المصلي حاملا للنجاسة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved