• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

1۔ صاحب ترتیب کسے کہتے ہیں؟2۔صاحب ترتیب کا نماز قضا کیے بغیر وقتی نماز پڑھانے کی صورت میں نماز کا حکم

استفتاء

1۔صاحب ترتیب کسے کہتے ہیں ؟

2۔آدمی سے مغرب کی نماز قضا ہوجائے عشاء کی نماز پڑھنے کے  وقت یاد آجائے مگر لوٹائے نہیں عشاء ہی پڑھ لے تو کیا اسکی وقتی نماز ہو جائے گی  یا  اگر اس نے لوگوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی  تو اسکا کیا حکم ہے؟ کسی نے کہا  ہے کہ اگر قضا نماز لوٹائے بغیر وقتی نماز پڑھے یاپڑھائے دونوں صورتوں میں ادا نماز موقوف ومعلق ہوتی ہے یہاں تک  کہ پانچ نمازیں نہ گزریں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔صاحب ترتیب وہ شخص کہلاتا ہے جس کی  بالغ ہونے کے بعد چھ نمازیں قضا نہ ہوئی ہوں یا قضا تو ہوئی ہوں لیکن ان تمام نمازوں کی قضا کرچکا ہو۔

2۔مذکورہ صورت میں اگر یہ آدمی صاحب ترتیب تھا اور ان کو مغرب کی قضا نماز یاد تھی اور پھر بھی مغرب  کی قضا پڑھے بغیر  اس نے عشا کی نماز پڑھ لی  یا پڑھا دی  تو امام  ابو حنیفہؒ کے  نزدیک اس کی یہ وقتی نماز فاسد ہو جائے گی۔ لیکن اس وقتی نماز کا فساد مزید پانچ نمازوں تک فوت شدہ نماز کی ادائیگی کرنے پر موقوف ہو گا۔ اگر یہ آدمی مزید پانچ نمازیں پڑھنے سے پہلے یا مزید پانچ نمازوں کا وقت گزر جانے سے پہلے اس نماز کی قضا کر لے، تو اس کی یہ نماز اور اس کے بعد پڑھی ہوئی نمازیں سب فاسد ہی رہیں گی۔ اور اگر پانچ نمازیں پڑھ لے یا پانچ نمازوں کا وقت گزر جائے اور اس قضا نماز کو یاد ہوتے ہوئے نہ پڑھے، تو اس کی یہ وقتی نماز اور اس کے بعد پڑھی ہوئی سب نمازیں درست ہو جائیں گی  لیکن ایسی صورت میں مزید پانچ  نمازوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ عشاء کے وقت ہی میں مغرب کی قضا کرکے عشاء کی نماز دوبارہ پڑھ لینی چاہیے۔

نوٹ:مذکورہ صورت میں اگر یہ آدمی چھ نمازوں کا وقت گزرنے تک اس نماز کی قضا نہ کرے تو چونکہ فائتہ کیساتھ  فاسد نمازیں چھ ہوجائیں گی اس لیے وہ صاحب ترتیب نہیں رہے گا اور جب صاحب ترتیب نہیں رہے گا تو اس کی موقوف  فاسد نمازیں بھی درست ہوجائیں گی۔

شامی (2/70) میں ہے:

 (وفساد) أصل (الصلاة بترك الترتيب موقوف) عند أبي حنيفة سواء ظن وجوب الترتيب أو لا (فإن كثرت وصارت الفوائت مع الفائتة ستا ظهر صحتها) بخروج وقت الخامسة التي هي سادسة الفوائت لأن دخول وقت السادسة غير شرط

(قوله عند أبي حنيفة) وأما عندهما فالفساد بات.

(قوله فإن كثرت) أي الصلاة التي صلاها تاركا فيها الترتيب، بأن صلاها قبل قضاء الفائتة ذاكرا لها، وهذا التفريع لبيان قوله موقوف.

وتوضيحه أنه إذا فاتته صلاة ولو وترا فكلما صلى بعدها وقتية وهو ذاكر لتلك الفائتة فسدت تلك الوقتية فسادا موقوفا على قضاء تلك الفائتة، فإن قضاها قبل أن يصلي بعدها خمس صلوات صار الفساد باتا وانقلبت الصلوات التي صلاها قبل قضاء المقضية نفلا، وإن لم يقضها حتى خرج وقت الخامسة وصارت الفواسد مع الفائتة ستا انقلبت صحيحة لأنه ظهرت كثرتها ودخلت في حد التكرار المسقط للترتيب

شامی (2/68) میں ہے:

يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة كما لو ترك صلاة صبح مثلا من ستة أيام وصلى ما بينها ناسيا للفوائت.

الدر المختار (2/90) میں ہے:

(ولا يعود) لزوم الترتيب (بعد سقوطه بكثرتها) أي الفوائت (بعود الفوائت إلى القلة ب) سبب (القضاء) لبعضها على المعتمد لأن الساقط لا يعود

(قوله بسبب القضاء لبعضها) كما إذا ترك رجل صلاة شهر مثلا ثم قضاها إلا صلاة ثم صلى الوقتية ذاكرا لها فإنها صحيحة اهـ بحر وقيد بقضاء البعض لأنه لو قضى الكل عاد الترتيب عند الكل كما نقله القهستاني

(قوله لأن الساقط لا يعود) وأما إذا قضى الكل فالظاهر أنه يلزمه ترتيب جديد فلا يقال: إنه عاد تأمل.

قواعد الفقہ (ص:345) میں ہے:

صاحب الترتيب من لم تكن عليه الفوائت ستا غير الوتر من غير ضيق الوقت والنسيان

معجم لغۃ الفقہاء (ص:127) میں ہے:

صاحب الترتيب: من لم يفت على صلاة تركها خمسة أوقات.

عمدہ الفقہ (2/347) میں ہے :

صاحب ترتیب وہ ہے جس کے ذمہ کوئی قضا نماز نہ ہو یا پانچ نمازوں تک کی قضا اس کے ذمہ ہو خواہ وہ پانچ یا اس سے کم نمازیں نئی ہوں یا پرانی مسلسل ہوں یا متفرق یا نئی پرانی مل کر ہوں اور خواہ حقیقتاً  قضا ہو یا حکماً۔

احسن الفتاوی(4/22)میں ہے :

جس کے ذمہ چھ فرض نمازیں قضا نہ  ہوں وہ صاحب ترتیب ہے چھ یا زیادہ فرائض کی قضا اس کے ذمہ ہو تو اس پر ترتیب لازم نہیں۔

احسن الفتاوی   (3/304) میں ہے :

سوال :زید ایک مسجد کا امام ہے آخر شب میں آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے زید کے وتر قضا ہو گئے ایسے وقت بیدار ہوا کہ جماعت فجر کا وقت قریب تھا اس لیے وتر کی قضا پڑھے بغیر فجر کی نماز پڑھا دی اور دوسرے روز بوقت اشراق وتر کی قضا پڑھی تو مقتدیوں کی نمازیں صحیح ہو گئی یا نہیں اگر دوسرے روز فجر سے قبل وتر کی قضا پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

 جواب : امام کی طرح مقتدیوں کی نمازیں بھی موقوف تھیں  قضا وتر سے قبل چھ نمازوں کا وقت گزر جانے سے سب کی نماز صحیح ہو گئی بشرط کہ ان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قضا نماز یاد ہو اور اگر دوسرے روز طلوع آفتاب سے قبل وتر کی قضا پڑھ لیتا تو امام اور مقتدی سب کے درمیانی نمازیں باطل ہو جاتیں۔

 تنبیہ : امام کو ایسا کرنا جائز نہیں اگر اس دوران میں امام یا کسی مقتدی کا انتقال ہو گیا تو قضا رہ جانے والی نمازوں کا عذاب امام پر ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved