- فتوی نمبر: 36-359
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
میری شادی کو 10 سال ہوگئے ہیں، میرا شوہر سعودیہ میں کام کرتا ہے، دس سال میں صرف دو بار چار ماہ کے لیے آیا تھا، اب پانچ سال ہوگئے ہیں وہ نہیں آیا، سسرال والوں کیساتھ پانچ سال گزارے وہ میرے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتے تھے، میں تنگ آکر اپنی ماں کے گھر آگئی، پانچ سال سے میں اپنی والدہ کے گھر ہوں، نہ مجھے خرچہ بھیجتا ہے، نہ اپنے پاس سعودیہ بلاتا ہے اور نہ خود پاکستان آتا ہے۔ تنگ آکر میں نے خلع کا کیس کیا اس پر بھی نہیں آیا نہ گھر والوں سے بات کررہا ہے ، اس کے گھر والوں نے میرے جہیز کا سامان بھی توڑ دیا ہے، محلے والوں کے سامنے اس کے گھر والوں نے بدنام کیا، اس کی پہلے دو شادیاں ہوئی تھیں ان کیساتھ بھی اس نے ایسا ہی کیا اور جھوٹ بول کر میرے سے تیسری شادی کی ، شادی کے دو ماہ بعد مجھے پتہ چلا۔سوال یہ ہے کہ خلع ہوگیا ہے یا نہیں؟
تنقیح: دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ میں خرچہ بھیجتا تھا اور اپنے سالے کو میں نے اپنے خرچے پر سعودیہ بھی بھیجا۔اور شوہر کے والد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں خلع کا نوٹس بھی ملا تھا اور ہم نے بیٹے کو اس بارے میں بتادیا تھا۔
بیوی سے و ضاحت مطلوب ہے کہ : آپ نے کہا تھا کہ” شوہر نے پانچ سال میں خرچہ نہیں بھیجا “جبکہ شوہر کہہ رہا ہے کہ میں پانچ سال خرچہ بھیجتا رہا ہوں اور بیوی کے بھائی کو میں نے باہر ملک بھی بھیجا ہے۔ درست بات کیا ہے؟
جواب وضاحت: وہ جھوٹ بول رہے ہیں ، دس سال ہو گئے ہیں میری شادی کو ان دس سالوں میں 3 بار خرچہ دیا ہے بس ، آپ خود سوچیں اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میں خرچہ دیتا رہا ہوں ان سے پوچھیں کتنی بار دیا ہے دس سال میں ؟ جو دیا ہے اس کے پیپرز ہوں گے اس کے پاس وہ بھیجیں، اور کوئی میرے بھائی کو نہیں بھیجا، میں خود teaching (ٹیچنگ) کرتی ہوں، خود اپنا خرچہ کرتی ہوں اور اب بھی 5 سال سے کیوں نہیں آ رہے؟ جبکہ کتنی بار میں بلا چکی ہوں مجھے لوگوں میں بدنام کرتے ہیں۔
نوٹ: خلع کی ڈگری ساتھ لف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیوی نے شوہر کے بُرے رویے اور خرچہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کی درخواست دی اور جج نے خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کردی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر بیوی اپنے بیان میں سچی ہے اور واقعتا شوہر پانچ سال سے نان نفقہ نہیں دیتا تھا اور بیوی نے اپنا نان نفقہ معاف بھی نہیں کیا تھا اور تنسیخ نکاح کی درخواست بھی اس وجہ سے دی تھی کہ اس کا شوہر اسے نان نفقہ نہیں دیتا تھا اور عدالت کے نوٹس بھیجنے کے باوجود بھی شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور عدالت نے تنسیخ نکاح کا فیصلہ کر دیا اور شوہر بیوی کی عدت گزرنے تک نان نفقہ دینے پر آمادہ نہیں ہوا تھا تو عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً درست ہے اور بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار ہوگا جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو جائے گا اور بیوی کو آگے نکاح کرنے کی اجازت ہوگی اور اگر شوہر اپنے بیان میں سچا ہے اور واقعتاً وہ پانچ سال سے خرچہ بھیج رہا ہے تو پھر عدالت کا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں اور نکاح فسخ نہیں ہوا اور بیوی ابھی تک شوہر کے نکاح میں ہے۔
توجیہ: اگرچہ عدالت نے خلع کا طریقہ اختیار کیا ہے اور یکطرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں فسخ نکاح کی معتبر بنیاد موجود ہے یعنی شوہر غائب غیر مفقود ہے اور بیوی کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی گی درخواست میں خرچہ نہ دینا بھی مذکور ہے اور اس کی دیگر شرائط بھی پائی جا رہی ہیں یعنی (1)شوہر کا نان نفقہ پر قادر ہونا (2)شوہر کا نان نفقہ نہ دینا (3)بیوی کا اپنا نان نفقہ معاف نہ کرنا (4)بیوی کی طرف سے کوئی ایسا نشوز (نافرمانی) نہ پایا جانا جس کی وجہ سے وہ نفقہ کی حقدار نہ رہے (5)عدالت کا واقعہ کی تحقیق کرنے کے لیے شوہر کو عدالت میں بلانا (6)عدالت کے شوہر کو بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود شوہر یا اس کے وکیل کا عدالت میں حاضر نہ ہونا اور شوہر کے حاضر نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا شوہر کے خلاف فیصلہ دینا لہذا مذکورہ صورت میں عدالتی خلع شرعا درست ہو گیا ہے۔
نیز خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو یا اس کے عزیز و اقارب اس کا نفقہ برداشت کرنے پر تیار ہوں مالکیہ کے نزدیک یہ شرط نہیں، “حیلہ ناجزہ”میں اس شرط کے لگانے اور مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق نہ لینے کی وجہ عدم ضرورت بیان کی گئی ہے۔چنانچہ حیلہ ناجزہ کے حاشیہ (72) میں ہے “و هذا الحكم عند المالكية لا يختص بخشية الزنا و إفلاس الزوجة لكن لم نأخذ مذهبهم على الإطلاق بل أخذناه حيث وجدت الضرورة المسوغة للخروج عن المذهب“ہم نے اپنے فتوے میں مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق لیا ہے کیونکہ اب عدالتیں اپنے فیصلوں میں اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھتیں اور قضائے قاضی رافع للخلاف ہوتی ہے۔
حیلہ ناجزہ (ص:150) میں ہے:
واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففى مجموع الامير ما نصه: ان منعها نفقة الحال فلها القيام فان لم يثبت عسره انفق او طلق والا طلق عليه قال محشيه قوله والا طلق اى طلق عليه الحاكم من غير تلوم، الى ان قال: وان تطوع بالنفقة قريب او اجنبى فقال ابن القاسم لها ان تفارق لان الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن لا مقال لها. لان سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفى وهو الذي تقضيه المدونه كما
قال ابن المناصف انظر الحطاب، انتهى۔
حیلہ ناجزہ (ص:72 طبع دارالاشاعت) میں ہے:
زوجہ متعنت (جو باوجود قدرت کے حقوق نان نفقہ وغیرہ ادا نہ کرے) کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو الخ
فتاوی عثمانی(2/462) میں ہے:
(1) اگر کوئی شوہر ایسا ہو جو باوجود استطاعت کے اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور عورت کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو اور شوہر طلاق یا خلع کے لئے بھی تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مالکی مذہب کے مطابق اس شوہر سے عدالت کے ذریعے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔
(2)خلاصی حاصل کرنے کے لئے عورت اپنا مقدمہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور یہ ثابت کرے کہ وہ فلاں کی بیوی ہے اور وہ باوجود استطاعت کے اس کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور نہ اس کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام ہےجس سے اس کو سخت ضر ر لاحق ہے اور وہ اس وجہ سے اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہے۔
(3) عورت “فلاں” کے ساتھ نکاح اور اس کا مذکورہ رویہ گواہوں سے ثابت کرے اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں یا گواہ ہوں لیکن اس نے پیش نہ کئے تو اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو تو اس سے قسم لی جائے گی، اگر اس نے قسم کھانے سے انکار کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ عورت کا دعوی درست ہے، اب جج شوہر سے کہے کہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق/خلع دو ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی کوئی مہلت دیئے بغیر اسی وقت بیوی پر طلاق واقع کر دے۔
(4) لیکن شوہر یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر نہ ہو، جیسا کہ آج کل عموما ایسا ہی ہے، اور عدالت کے بار بار نوٹس اور سمن جاری کرنے اور شوہر کے نوٹس اور سمن کے بارے میں مطلع ہونے کے باوجود شوہر عدالت حاضر نہ ہوتا ہو تو اگر بیوی کے پاس گواہ موجود ہوں اور وہ پیش بھی کرے تو جج ان کی گواہی کی بنیاد پر بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے،اور اگر عورت کے پاس گواہ موجود نہ ہوں، یا ہوں لیکن وہ پیش نہ کرے تو شوہر کا بار بار بلانے کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہونا اس کی طرف سے قسم سے انکار (نکول) سمجھا جائے گا اور اس کی بنیاد پر عدالت شوہر غائب کے خلاف اور بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے گی۔۔۔۔۔۔۔الخ
(5) بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ درخواست برائے فسخ نکاح نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دے ، اور جج اپنے فیصلے میں بھی اسی کو بنیاد بنائے،خلع کا طریقہ کار ہرگز اختیار نہ کرے،اس لئے کہ یکطرفہ خلع شرعا کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں، تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیاد فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو یعنی شوہر کا “تعنت”ثابت ہو رہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہو گا تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے بشرطیکہ یہ فیصلہ مذکورہ بالا شرائط اور طریقہ کار کے مطابق ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved