- فتوی نمبر: 37-91
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
پاکستان سے سعودی عرب بذریعہ سعودی ایئر لائن یا کوئی بھی ہو اس میں کچھ سیٹ بزنس ہوتی ہیں جن کی قیمت عام سیٹ کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے بعض اوقات عام قیمت سے دو لاکھ تک کا فرق بھی ہوتا ہے ۔بزنس سیٹ اکثر یا بعض اوقات خالی ہوتی ہیں ۔سعودی ایئر لائن کا پاکستانی عملہ کسی کو تعلق کی بنیاد پر بغیر کسی عوض کے بزنس سیٹ میں منتقل کر دیتا ہے لیکن اس کو مزید سہولیات کھانا پینا بزنس سیٹ والا نہیں ملتا بلکہ عام سیٹ والا ملتا ہے صرف بزنس سیٹ دی جاتی ہے۔ یہ دینا عملہ کا اپنا اختیار اور صوابدید سے ہوتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ عام سیٹ والے کا اس طرح بزنس سیٹ پر سفر کرنے کا کیا حکم ہے ؟
تنقیح1۔: سعودی ایئر لائن کی ویب سائٹ میں ہے:
Each coupon will be accepted for travel on the specified class of service, date and flight booked.
ترجمہ : ہر ٹکٹ اسی درجۂ سفر، تاریخ اور پرواز کے ساتھ مخصوص ہوگا جس پر سفر کے لیے اس کی بکنگ کی گئی ہے، اور اسی کے لیے معتبر سمجھا جائے گا۔
Passenger seats
SAUDIA does not guarantee any particular seat in the aircraft and the passenger should accept any seat on the class of the service to which the ticket was issued unless otherwise specified.
ترجمہ: سعودیہ ایئرلائن کسی مسافر کے لیے ہوائی جہاز میں کسی مخصوص نشست کے مقرر ہونے کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ مسافر کو اسی درجۂ سفر کی کوئی بھی نشست قبول کرنا ہوگی جس درجۂ سفر کا ٹکٹ اس کے لیے جاری کیا گیا ہے، الا یہ کہ کسی مخصوص نشست کے تعین کی صراحت کی گئی ہو۔
تنقیح2۔ اس سلسلے میں پی آئی اے کے عملے میں شامل ایک ایئر ہوسٹس سے معلومات حاصل کی گئیں، تو انہوں نے بتایا کہ جس طرح جہاز کے باہر بورڈنگ کے دوران یہ سہولت موجود ہوتی ہے کہ آپ اپنی اکانومی کلاس کی پہلے سے خریدی گئی ٹکٹ کو اضافی رقم دے کر بزنس کلاس میں تبدیل کروا لیں اسی طرح اگر بزنس کلاس کی سیٹیں خالی ہوں تو جہاز کے اندر بھی یہ سہولت موجود ہوتی ہے کہ پیسے دے کر اپنی اکانومی کلاس کی ٹکٹ کو بزنس کلاس میں تبدیل کروا لیں اس وجہ سے عملے کو اس بات کا اختیار نہیں ہوتا کہ بغیر پیسے وصول کیے کسی شخص کو بزنس کلاس میں منتقل کر دے بلکہ ائیر لائن کی طرف سے اس کی پابندی ہوتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عام ضابطے کی رُو سے عام سیٹ والے کا بزنس کلاس میں بزنس کلاس کا کرایہ ادا کیے بغیر سفر کرنا عملے کی اجازت کے ساتھ بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ائیر لائن کا نقصان ہے اور عملہ چونکہ جہاز کا مالک نہیں ہوتا اس لیے عملے کی اجازت کا اعتبار نہیں ہے البتہ اگر یقین یا غالب گمان یہ ہو کہ اگر مذکورہ صورت مالکان کے علم میں لائی جائے تو وہ اسے منع نہ کریں گے تو جائز ہے۔
جواہر الفقہ (1/370) میں ہے:
جس درجہ کا ٹکٹ ہو، اس سے زیادہ درجہ میں سفر کرنا درست نہیں ۔ مثلاً سوم درجہ کا ٹکٹ لے کر ڈیوڑھے میں بیٹھنا درست نہیں ۔ اور اسی طرح یہ درست نہیں کہ وہاں قضائے حاجت کے لئے جا گھسے۔
امداد الاحکام (4/421) میں ہے :
سوال: بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ ریل گاڑی پر بلا کرایا چڑھنا گناہ ہے اور قاعدے کے موافق جو بوجھ سامان لے جانا درست ہے اس سے زیادہ لے جانا گناہ ہے۔ قیامت کے دن بجائے روپیہ کے نیک عمل دینا پڑے گا۔ اس لیے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر ملازم ریلوے کے معرفت زائد سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ ملازم گنہگار ہوگا یا مسافر؟
جواب: ملازمان ریلوے نوکر ہیں۔ ریلوے کے مالک نہیں اس لیے دوسروں کی چیز میں خلاف مرضی مالک مراعات فراہم کرنے کا ان کو کچھ حق نہیں پس جتنا سامان ساتھ رکھنے کا ملازم کو قانون ریلوے سے حق دیا گیا ہو اس میں تو نہ ملازم گنہگار ہے نہ مسافر اور اس سے زائد رکھنے میں دونوں گنہگار ہوں گے۔
امداد الفتاوی (409/3) میں ہے :
سوال: پرسوں جب فلاں صاحب یہاں سے جانے لگے تو انہوں نے بسلسلہ گفتگو مجھ سے یہ کہا کہ میرے ساتھ اسباب بہت زیادہ ہے اگر یہاں سے وزن کراکے جائے قیام تک لے جاتا تو بہت محصول دینا پڑتا ، مگر اب تو چھ سات آدمی اسی گاڑی سے میرے ساتھ سہارنپور جارہے ہیں ، لہٰذا وہاں تک بلا محصول چلا جائے گا، کیونکہ چھ سات ٹکٹ سے زائد کا اسباب نہیں ہے، سہارنپور سے البتہ تُلوا کر لے جانا ہوگا ، میں نے کہا کہ چھ سات آدمیوں سے کیا مطلب، اسباب تو تنہا آپ کا، انہوں نے کہا اس طرح لے جانا جائز ہے، مجھے کچھ علم تو ہے نہیں کہ آگے بڑھتا لہذا خاموش ہوگیا، مگر یہ بات جی کو لگی نہیں ، نہ شرح صدر ہوا، چونکہ اس قسم کے واقعات اکثر لوگوں کو پیش آیا کرتے ہیں ، اور ممکن ہے مجھ ہی کو پیش آجائے، تو ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے؟
الجواب: چونکہ یہ عقد اجارہ ہے، اس لئے مالک کے جائز قانون کے خلاف کرنا جائز نہیں ۔ اب یہ امر قابل تحقیق رہ گیا کہ قانون کا حاصل کیا ہے، سوغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون میں یہ قید تو نہیں ہے کہ وہ مال اسی مسافر کا ہو، اسی لئے اگر مسافر کے متعلق یہ معلوم ہوجائے کہ یہ کسی دوست کا یا اس کے آقا کا سامان لئے جارہا ہے، تب بھی اس کو کوئی ذمّہ دار منتظم نہ روکے گا ، لیکن یہ قید ضرور معلوم ہوتی ہے کہ وہ اسباب اس کی تحویل وسپردگی میں ہو، خلاصہ یہ کہ ملک شرط نہیں مگر قبضہ ونگرانی شرط ہے، پس اس کا مقتضا یہ ہے کہ صرف معیت سفر کی اورٹکٹوں کی مبتدا و منتہا کا اتحاد کافی نہیں ، بلکہ اگر اسباب سب اس طرح تقسیم کردیا کہ ہر شخص ایک ایک حصہ مثل اپنے سامان کے اپنی نگرانی میں لے کر سفر کرے تو یہ صورت جائز ہے، اور اگر نگرانی مالک ہی کی رہی تو جائز نہیں ، باقی کسی قانون داں سے اگر مزید تحقیق قانون کی کرلی جاوے تو ممکن ہے کہ اس کا حاصل کچھ اس کے خلاف کو مقتضی ہو۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved