- فتوی نمبر: 31-381
- تاریخ: 14 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
گزارش ہے کہ مجھے ( فاطمہ کو ) میرے شوہر زید ولد خالد نے لڑائی کے دوران تین مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی ” میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں” تین بار کہا جسے میں نے اور میرے 18 سال کے بیٹے نے بھی سنا ۔ اب مفتی صاحب صورتحال یہ ہے کہ میرے گھر والے مجھے واپس میرے شوہر کے گھر بھیجنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں نے غیر مقلدین سے فتوی بھی لے لیا ہے۔ جبکہ میں اب اس کے پاس واپس نہیں جانا چاہتی۔
آپ جناب سے گزارش ہے کہ مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا حل بتایا جائے تاکہ میں گناہ سے بچ سکوں اور دین کے مطابق عمل کر سکوں۔
نوٹ: شوہر سے دارالافتاء کے نمبر سے رابطہ کیا گیا تو شوہر نے بیوی کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے، واضح رہے کہ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں چاہے اکٹھی ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں، جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین اورائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔
چنانچہ ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنه فجاءه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثاً فسكت حتى ظننت أنه سيردها إليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الأحموقة ثم يقول يا ابن عباس یا ابن عباس يا ابن عباس إن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و انك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجاً عصيت ربك و بانت منك امرأتك.
ترجمہ: مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ( بیٹھا) تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے؟ اس پر ) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے ، پھر انہوں نے فرمایا: تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے (اور تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اے ابن عباس! اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! (کوئی راہ نکالیے کی دہائی دینے لگتا ہے) بے شک اللہ کا فرمان ہے: “ ومن یتق الله يجعل له مخرجا ” (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں) تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا ( اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے ) تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر ) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر قال … أما أنت طلقتها ثلاثا، فقد عصيت ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك، وبانت منك.
ترجمہ:نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ( اکٹھی تین طلاق دینے والے سے) کہا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے (طلاق مغلظ کے ساتھ ) جدا ہو گئی ہے۔
مؤطا امام مالک (صفحہ 521، باب طلاق البکر، ط میر محمد کتب خانہ ) میں ہے:
أن رجلاً من أهل البادية طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها … فقال أبو هريرة الواحدة تبينها و الثلاث تحرمها حتى تنكح زوجاً غيره و قال ابن عباس مثل ذلك.
ترجمہ: اہل بادیہ (جنگل کے رہنے والوں) میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو رخصتی سے پہلے ہی (اکٹھی) تین طلاقیں دے دیں۔۔۔۔ تو مسئلہ پوچھنے پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (جواب میں ) فرمایا ایک طلاق دی تو اس سے جس عورت کی رخصتی نہ ہوئی ہو نکاح سے نکل جاتی ہے اور تین طلاقیں (اکٹھی ) دی ہوں (یعنی یوں کہا کہ تجھ کو تین طلاق ) تو یہ اس عورت کو حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح کرے، اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا۔
عمدۃ القاری (232/1)میں ہے :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفة واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة وآخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.
مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفة والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا……وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.
در مختار مع رد المحتار (509/4) میں ہے:
فروع) كرر لفظ الطلاق وقع الكل
قوله: (كرر لفظ الطلاق بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قدطلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved