- فتوی نمبر: 26-41
- تاریخ: 11 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کسی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اب عدت کے بعد وہ میرے پاس آنا چاہتی ہے اور میرے سسرال والے بھی تیار ہیں اور میں دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،مجھے شریعت کے مطابق اس کا حل چاہئے،وہ حنفی مسلک کے ہیں اورمیں اہلحدیث ہوں ،وہ کہتے ہیں اگر حنفی مسلک کے حساب سے نکاح ہو سکتا ہے تو ہم تیار ہیں کیا مذکورہ صورت میں فقہ حنفی کی رو سے دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے؟
وضاحت مطلوب ہے کہ آپ نے کتنی طلاقیں دی تھیں ؟
جواب وضاحت: ایک ہی مجلس میں تین دفعہ کہا تھا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی“۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوگئی ہے لہذامذکورہ صورت میں فقہ حنفی کی رو سے دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں البتہ اگرآپ کی بیوی اپنی مرضی سے کسی اور مرد سے نکاح کرے جس میں گواہ بھی ہوں اور مہر بھی مقررکیا جائےاور نکاح کے بعد شوہر کم از کم ایک مرتبہ اس سے ہم بستری بھی کرلے اس کے بعد اگر یہ دوسرا شوہر اس عورت کواپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت گزار کر آپ کی بیوی آپ کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتی ہے۔
نوٹ: تین طلاقیں چاہے اکھٹی(ایک مجلس میں) دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی واقع ہوتی ہیں اور یہ صرف فقہ حنفی کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہور (تقریباً تمام)صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وتابعین ؒ اور ائمہ اربعہ ؒ کا یہی مذہب ہے۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال ……… اما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امرأتك وبانت منك
’’نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘
ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.
ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك
’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)
تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘
نوٹ: مذکورہ حدیثوں میں سائل نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں کیونکہ اگر اس نے الگ الگ مجلسوں میں طلاق دی ہوتی تو حضرت عبداللہ ابن عمرؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سائل کو یہ نہ کہتے کہ تونے اپنے رب کی نافرمانی کی،کیونکہ الگ الگ مجلسوں(تین طہروں) میں تین طلاق دینے میں نافرمانی کی بات نہیں۔
علامہ بدرالدین العینی رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری (جلد1 صفحہ232 )میں تحریر فرماتے ہیں :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم
مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابوحنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا…
وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا(6/437)
فتاوی ہندیہ(2/198) میں ہے:
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة
ہدایہ (409/2)میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة والثنتان في حق الأمة كالثلاث في حق الحرة لأن الرق منصف لحل المحلية على ما عرف ثم الغاية نكاح الزوج مطلقا والزوجية المطلقة إنما ثبتت بنكاح صحيح وشرط الدخول ثبت بإشارة النص وهو أن يحمل ا لنكاح على الوطء حملا للكلام على الإفادة دون الإعادة إذ العقد استفيد بإطلاق اسم الزوج أو يزاد على النص بالحديث المشهور وهو قوله عليه الصلاة والسلام لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر روي بروايات ولا خلاف لأحد فيه سوى سعيد بن المسيب رضي الله عنه وقوله غير معتبر حتى لو قضى به القاضي لا ينفذ والشرط الإيلاج دون الإنزال لأنه كمال ومبالغة فيه والكمال قيد زائد
در مختار مع رد المحتار (5/51)میں ہے:
(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط …… وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي
(قوله: وتأويل اللعن إلخ) الأولى أن يقول وقيل تأويل اللعن إلخ كما هو عبارة البزازية ولا سيما وقد ذكره بعد ما مشى عليه المصنف من التأويل المشهور عند علمائنا ليفيد أنه تأويل آخر وأنه ضعيف. قال في الفتح: وهنا قول آخر، وهو أنه مأجور وإن شرط لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن عند هؤلاء إذا شرط الأجر على ذلك. اهـ. قلت: واللعن على هذا الحمل أظهر لأنه كأخذ الأجرة على عسب التيس وهو حرام. ويقربه أنه عليه الصلاة والسلام سماه التيس المستعار.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved