• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تین سال پہلے میں نے ایک ہی وقت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، الفاظ یہ تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ کیا ان الفاظ سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

درمختار مع رد المحتار(4/509)میں ہے

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين

(قوله ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

فتاوی ہندیہ(2/411)میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved