- فتوی نمبر: 32-391
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > حدود و قصاص > قتل کی حد
استفتاء
چھ ماہ پہلے تین لوگوں نے میرے والد صاحب کو اغوا برائے تاوان کرنے کی کوشش کی ،لیکن چونکہ وہ ہمارے ہی گاؤں کے رہنے والے تھے، والد صاحب نے انکو پہچان لیا اور مزاحمت کی جس کی وجہ سے انہوں نے والد صاحب کو قتل کرنا چاہا اور بہت بری طرح سے زخمی کیا اور جب وہ مطمئن ہوگئے کہ اب یہ زندہ نہیں بچے گا تو والد صاحب کو چھوڑ کر بھاگ گئے، آس پاس کے گاؤں والوں نے والد صاحب کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا اور والد صاحب کا بروقت علاج ہوا، اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے فضل فرمایا اور والد صاحب کی جان بچ گئی۔اس واقعے کی ہم نے ایف آئی آر کٹوائی لیکن ملزم گرفتار نہ ہوسکے اور فرار ہوگئے۔6 ماہ بعد ملزم واپس اپنے گھروں میں رہنے لگے اور ہم پولیس کو لیکر انہیں گرفتار کروانے كے لیے ان کے گھر پہنچے، لیکن ملزم دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس کی معاونت کے لیے میں اور میرا چچا زاد بھائی تھا۔ جب وہ فرار ہوئے تو ہم ناکام ہوکر اپنے گھر چلے گئے اور پولیس بھی واپس چلی گئی۔ کچھ گھنٹوں بعد میں اپنے گھر میں موجود تھا تو مجھے اس چچا زاد نے فون کیا، جو ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی معاونت میں میرے ساتھ تھا، اور کہا کہ انہی ملزمان نے میرا راستہ روکا ہے اور مجھ سے لڑائی کر رہے ہیں۔ میں نے گھر میں سب کو اطلاع کی اور میں نے احتیاطا پستول اٹھایا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ملزمان کے پاس ہر وقت پستول ہوتے ہیں اس لیے اگر وہ ہم پر فائر کھولیں تو ہم اپنا دفاع کر سکیں۔ میں پستول لیکر وہاں پہنچا تو ایک ملزم اور ایک ملزم کا بھائی جو ملزم نہیں تھا، میرے پاس یہ کہتے ہوئے آنے لگے کہ لو آؤ مجھے مارو اور جیسے ہی میرے بالکل قریب پہنچے تو اس ڈر سے کہ یہ مجھے پکڑ کر زخمی نہ کریں یا مجھ سے میرا ہی پستول چھین کر مجھ پر فائر کریں، میں نے ان کو زخمی کرنے کے ارادے سے سیدھی گولیاں چلائیں اور ایک گولی ملزم کے پیٹ میں لگی اور ایک گولی ملزم کے بھائی کے پیٹ میں لگی اور وہ دونوں زخمی ہوگئے، دونوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن اگلے دن دونوں کی موت واقع ہوگئی۔ کیا یہ میرا عمل قتل عمد ہے، قتل خطا ہے، یا قتل شبہ عمد ہے؟ اور اگر قتل عمد یا شبہ عمد ہے تو کیا میری مغفرت ہوسکتی ہے؟ کیونکہ قتل عمد کی بہت سخت سزا اللّٰہ رب ذوالجلال نے سورہ نساء کی آیت 93 میں بیان فرمائی ہے، اس کے کفارے اور دیت کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کا یہ فعل قتل عمد ہے۔ سچی توبہ کرنے سے مغفرت ہوسکتی ہے اور کفارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔
مرقاۃ المفاتیح (4/1636) میں ہے:
(وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” التائب من الذنب) أي: توبة صحيحة (كمن لا ذنب له) أي: في عدم المؤاخذة، بل قد يزيد عليه بأن ذنوب التائب تبدل حسنات، ويؤيد هذا ما جاء عن رابعة رضي الله عنها أنها كانت تفخر على أهل عصرها كالسفيانين والفضيل، وتقول: إن ذنوبي بلغت من الكثرة ما لم تبلغه طاعاتكم، فتوبتي منها بدلت حسنات فصرت أكثر حسنات منكم
مرعاۃ المفاتیح (8/71) میں ہے:
قوله: (التائب من الذنب) أي: توبة صحيحة وإطلاق الذنب يشمل الذنوب كلها، فيدل الحديث على أن التوبة مقبولة من أي ذنب كان، وظاهر الحديث يدل على أن التوبة إذا صحت بشرائطها فهي مقبولة (كمن لا ذنب له) أي: مثله في عدم تضرره. وقال السندي: ظاهره إن الذنب يرفع من صحائف أعماله ويحتمل أعماله ويحتمل أن المراد التشبيه في عدم العقاب
شامی(10/156) میں ہے:
الأول (عمد، وهو أن يتعمد ضربه) أي ضرب الآدمي في أي موضع من جسده (ب) آلة تفرق الأجزاء مثل (سلاح) ومثقل لو من حديد جوهرة…….. (وموجبه الإثم) فإن حرمته أشد من حرمة إجراء كلمة الكفر لجوازه لمكره، بخلاف القتل (و) موجبه (القود عينا) فلا يصير مالا إلا بالتراضي فيصح صلحا ولو بمثل الدية أو أكثر ابن كمال عن الحقائق (لا الكفارة) لأنه كبيرة محضة، وفي الكفارة معنى العبادة فلا يناط بها
مسائل بہشتی زیور (2/382) میں ہے:
قسم اول: قتل عمد
جس میں مقتول کو قصداً و عمداً ایسے آلہ سے ضرب لگائی گئی ہو جو تفریق اعضاء کرتا ہو، جیسے ہتھیار اور کوئی دھار دار لکڑی پتھر یا شیشہ وغیرہ۔ جسم کی نازک جگہوں پر سوا گھونپنا بھی اسی میں شامل ہے اور اسی زمرے میں آگ سے جلانا بھی ہے، کیونکہ آگ بھی تفریق اعضا کرتی ہے لوہے کے پٹے سے مارنا جبکہ اس سے زخم بھی ہوا ہو، کھولتے ہوئے پانی میں ڈالنا اور گرم تندور وغیرہ میں پھینکنا بھی قتل عمد ہے، مذکورہ آلات سے ضرب لگانا یا دیگر مذکورہ طریقوں کو اختیار کرنا قاتل کے قتل کرنے کے قصد پر دلیل ہے۔ لہٰذا اس دلیل کے ہوتے ہوئے قاتل کے عمد و قصد کا زبانی انکار کرنا مسموع نہیں ہوگا۔
حکم : قاتل کو سخت گناہ ہوتا ہے اور مقتول کے وارث قاتل کو قصاص میں عدالتی فیصلہ پر قتل کر سکتے ہیں لیکن مقتول کے وارث چاہیں تو قاتل کو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ باہمی رضامندی سے دیت مقرر کر کے لی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved