- فتوی نمبر: 36-304
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ جامع مسجد ہو اور اس کو لاک کردیا جائے، دو دن اسپیکر میں اذان نہ ہو ظاہر ہے کہ جب اذان کی آواز نہیں ہوگی نمازی بھی شنید ہے کہ نہیں آئیں گے۔ ایسے امام یا مقتدی کے بارے میں کیا حکم ہے جو مسجد کو لاک کریں؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا جامع مسجد کو نماز کے وقت میں لاک کیا گیا ہے یا نماز کے بعد؟ اسپیکر پر اذان کیوں نہیں دی گئی؟ مذکورہ امام ومقتدی کا اس بارے میں تحریری مؤقف بھی دیں۔
جواب وضاحت: جب امام صاحب چھٹی پر جاتے ہیں اس دن مسجد لاک ہوتی ہے کوئی نمازی اندر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی اسپیکر پر اذان دی جاسکتی ہے۔
ان کا مؤقف یہ ہے کہ مسجد کی اشیاء کی ایسے حفاظت کی جاتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اوقاتِ نماز میں مسجد کو لاک کرنا (تالا لگانا) جائز نہیں۔
تبیین الحقائق (1/168) میں ہے:
قال – رحمه الله – (وغلق باب المسجد) لأنه يشبه المنع من الصلاة قال الله تعالى {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} [البقرة: 114] وقال – صلى الله عليه وسلم – «يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا طاف بهذا البيت وصلى في أي ساعة شاء من ليل أو نهار» وقيل لا بأس بالغلق في زماننا في غير أوان الصلاة صيانة لمتاع المسجد
البنایہ شرح الہدایہ (2/470) میں ہے:
م: (ويكره أن يغلق باب المسجد؛ لأنه يشبه المنع من الصلاة) ش: أي لأن الإغلاق شبه المنع فيكره؛ لقوله تعالى {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه}
م: (وقيل: لا بأس به) ش: أي بإغلاق باب المسجد م: (إذا خيف على متاع المسجد) ش: من السرقة م: (في غير أوان الصلاة) ش: أي في غير وقتها للاحتياط وهو حسن، وقيل: إذا تقارب الوقتان كالعصر والمغرب والعشاء لا يغلق، وبعد العشاء يغلق إلى طلوع الفجر، ومن طلوع الشمس إلى وقت الزوال، ذكره شمس الأئمة وقاضي خان، والتدبير في الإغلاق وتركه إلى أهل المحلة، فإنهم إذا اجتمعوا على رجل جعلوه متوليا بغير أمر القاضي يكون متوليا.
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (4/174) میں ہے:
سوال: زید ایک مسجد کا امام ہے، وہ بعد نمازِ عشاء نو بجے مسجد کے کواڑ بند کر لیتا ہے، اور جو نمازی کواڑ بند کرنے کے بعد آتا ہے تو زید کواڑ نہیں کھولتا۔ کیا کسی حدیث میں ہے کہ مسجد کے کواڑ بند کر کے پھر نہ کھولے جائیں؟
جواب: درِ مختار میں ہے: دروازۂ مسجد کا بند کرنا مکروہ ہے، لیکن اگر اسبابِ مسجد کے گم ہو جانے کا اندیشہ ہو تو سوائے اوقاتِ نماز کے دروازہ مسجد کا بند کرنا درست ہے۔ اور شامی میں ہے کہ یہ امر اہلِ محلہ کی رائے پر ہے، جس وقت وہ مناسب سمجھیں، سوائے اوقاتِ نماز کے دروازہ بند کرا دیا کریں۔
صورتِ مذکورہ میں امامِ مسجد کا نمازیوں کے لیے دروازہ نہ کھولنا خلافِ حکمِ شریعت ہے، اور دروازہ بند کر کے پھر نہ کھولنا، اگرچہ نمازیوں کی ضرورت سے ہو، کہیں ثابت نہیں۔
بہشتی زیور(حصہ: 11، ص:568) میں ہے:
مسجد کے دروازے کا بند کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ ہاں، اگر نماز کا وقت نہ ہو اور مال و اسباب کی حفاظت کے لیے دروازہ بند کیا جائے تو جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved