• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورت کا اپنی آواز کا نعت اپلوڈ کرنا

استفتاء

میری  ایک بھتیجی ہے جس کی عمر ۱۴سال  ہے اور وہ  بارھویں کلاس کی طالبہ  ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت خوبصورت  آواز  عطا فرمائی ہے ۔  وہ گھر  میں قراءت اور نعت پڑھتی  ہے ۔ کیا وہ اپنی  آواز  ویڈیو کے بغیر  یا ویڈیو کے ساتھ سکارف  لے کر یو ٹیوب  پر اپ لوڈ کر سکتی  ہے ؟ویڈیو کے ساتھ اور بغیر ویڈیو  کے صرف آواز  ۔۔دونوں صورتیں ممکن ہیں ، یا ان میں سے  ایک  یا پھرکوئی بھی نہیں ؟ برائے  مہربانی  دین کی تعلیمات  کی روشنی میں رہنمائی  فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تصویر کے بغیرقراءت یا  نعت پڑھ کر ویڈیو   اپلوڈ کرنا جا ئز توہے  تا ہم  بہتر یہ ہے  کہ  اپلوڈ نہ کی جائے  کیونکہ اپلوڈ کر دینے   کی صورت میں اجنبی مردوں کے سننے کا بھی  احتمال ہے جوان کے لیے  فتنہ کا باعث  ہو سکتا ہے۔

توجیہ :۱۴سال کی بچی اگر نابالغہ نہ بھی ہو تب بھی مراہقہ ہوتی ہے  جس کے احکام  بالغ عورتوں  والے ہوتے ہیں ۔اور عورت کی آواز  اگر چہ  بعض حضرات  کے نزدیک  عورت (ستر)ہے تاہم  راجح یہ ہے  کہ عورت  کی آواز   (ستر)نہیں ،البتہ  فتنے کا باعث ہونے کی وجہ سے عورت کے لیے مردوں کے سامنے بلاضرورت    اپنی آواز   بلند کر نا  ممنوع ہے۔ لیکن  یہ  ممانعت  اس صورت میں ہے جب  اجنبی مرد کا آواز سننا یقینی ہو  مذکورہ صورت میں چونکہ  اجنبی  مرد کا سننا یقینی نہیں اس  لیے گنجائش ہے اور چونکہ  سننے کا احتمال  بھی ہے یعنی اگر کوئی سننا چاہے تو وہ سن سکتا  ہے  اور اسے  روکا نہیں جاسکتا اور  یہ سننا اس اجنبی مرد  کے فتنے میں ابتلاء   کا سبب بن سکتا ہے اس لیے بہتر  یہی  ہے کہ مذکورہ صورت سے  اجتنا ب کیا جائے ۔

فتح القدير (1/ 343)میں ہے:

وتعلم المرأة من المرأة أحب من تعلمها من الأعمى.

المبسوط للسرخسی(1/ 251)میں ہے:

قال: “وإن أذنت لهم امرأة جاز” لحصول المقصود وهو مكروه لأن أذان النساء من المحدثات لم يكن في السلف وكل محدثة بدعة ولأن في صوتها فتنة وهي منهية عن الخروج إلى الجماعات والأذان لإقامة الصلاة بالجماعة.

مراقى الفلاح مع شرحہ للطحاوی(ص: 216) میں ہے:

( و ) يجب التكبير على ( من اقتدى به ) أي بالإمام المقيم ( ولو كان ) المقتدي ( مسافرا أو رقيقا أو أنثى ) تبعا للإمام والمرأة تخفض صوتها دون الرجال لأنه عورة

قال الطحطاوى تحته:قوله(والمرأة تخفض صوتها ) بحيث تسمع نفسها والتعليل يفيد الوجوب  قوله(لأنه عورة ) هذا غير معتمد والصحيح أنه يؤدي إلى الفتنة أفاده السيد وقد سبق والمراد بالعورة معناها اللغوى وهو العيب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved