- فتوی نمبر: 26-256
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > پردے کا بیان
استفتاء
میں آن لائن قرآن پاک پڑھاتی ہوں اور آن لائن قرآن پاک پڑھانے کا یوٹیوب پر چینل بنانا چاہتی ہوں کیا وہ میرے لئے جائز ہےیانہیں ؟میں عورت ہوں شرعی پر دہ کرتی ہوں صرف ویڈیو ریکارڈنگ کی وائس لگاؤں گی کیا وہ جائز ہے یانہیں ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ:
1)قرآن پاک پڑھانے کی صورت کیا ہوگی ؟
2)کیا آپ اپنی تلاوت ریکارڈ کرکے رکھیں گی یا تجوید کی تعلیم دیں گی یا قرآن پاک پڑھانے کا طریقہ بتائیں گی؟
3) ويڈيو اپلوڈ کرنے کا سائلہ کو کوئی مالی فائدہ ہے؟ یا نہیں۔
جواب وضاحت: 1)جی کلاس کی پہلے ریکارڈنگ ہوگی پھر تصویر کے بغیر صرف وائس یوٹیوب پر اپلوڈ ہوگی۔
2)یہ کہ ایک آیت پڑھوں گی پھر گیپ دے کر ایک آیت پڑھوں گی اسی طرح ترتیب سے تاکہ اگر کوئی سیکھنا چاہے تو سیکھ سکے۔ نیز آڈیو موجود ہے۔
3)اس سے لوگ سیکھیں گے اور آئن لائن قرآن پڑھنے کے لیے مجھ سے رابطہ کریں گے ان شاء اللہ ۔ اور میں گھر بیٹھ کر آن لائن قرآن پڑھا لوں گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ ویڈیو اپلوڈ کرنے کی اجازت ہے تا ہم بہتر یہ ہے کہ اپلوڈ نہ کی جائے کیونکہ اپلوڈ کر دینے کی صورت میں اجنبی مردوں کے سننے کا بھی احتمال ہے جوان کے لیے فتنہ کا باعث ہو سکتا ہے ۔
توجیہ : عورت کی آواز اگر چہ بعض حضرات کے نزدیک عورت (ستر)ہے تاہم راجح یہ ہے کہ عورت کی آواز (ستر)نہیں البتہ فتنے کا باعث ہونے کی وجہ سے بلاضرورت اپنی آوازاجنبی مردوں کو سنانا ممنوع ہے لیکن یہ مما نعت اس صورت میں ہے جب اجنبی مرد کا آواز سننا یقینی ہو، مذکورہ صورت میں چونکہ اجنبی مرد کا سننا یقینی نہیں اس
لیے گنجائش ہے اور چونکہ سننے کا احتمال بھی ہے یعنی اگر کوئی سننا چاہے تو وہ سن سکتا ہے اور اسے روکا نہیں جاسکتا اور یہ سننا اس کے فتنے میں ابتلاء کا سبب بن سکتا ہے اس لیئے بہتر یہی ہے کہ مذکورہ صورت سے اجتنا ب کیا جائے ۔
فتح القدير (1/ 343)میں ہے:
وتعلم المرأة من المرأة أحب من تعلمها من الأعمى.
مجمع الأنہر (1/ 259)میں ہے:
وقال أبو يوسف يكبر وإن قضاها في غيرها لا يكبر كما لو قضى فائتة غيرها فيها وعن أبي يوسف أنه يكبر كما في المحيط ولو قال أو قضى فيها في تلك السنة لكان أولى بجماعة فلا يكبر المنفرد مستحبة أي غير مكروهة فلا تكبر النساء المصليات وحدهن بجماعة وكذاجماعة العراة كما في البحر وبالاقتداء بمن يجب عليه التكبير يجب على المرأة بلا رفع الصوت لأن صوتها عورة والمسافر بطريق التبعية
المبسوط للسرخسی (1/ 251)میں ہے:
قال: “وإن أذنت لهم امرأة جاز” لحصول المقصود وهو مكروه لأن أذان النساء من المحدثات لم يكن في السلف وكل محدثة بدعة ولأن في صوتها فتنة وهي منهية عن الخروج إلى الجماعات والأذان لإقامة الصلاة بالجماعة.
البحر الرائق (458/1)میں ہے:
وأما أذان المرأة فلأنها منهية عن رفع صوتها لأنه يؤدي إلى الفتنة
مراقى الفلاح مع شرحہ للطحاوی(ص: 216) میں ہے:
( و ) يجب التكبير على ( من اقتدى به ) أي بالإمام المقيم ( ولو كان ) المقتدي ( مسافرا أو رقيقا أو أنثى ) تبعا للإمام والمرأة تخفض صوتها دون الرجال لأنه عورة
قال الطحطاوى تحته:قوله(والمرأة تخفض صوتها ) بحيث تسمع نفسها والتعليل يفيد الوجوب قوله(لأنه عورة ) هذا غير معتمد والصحيح أنه يؤدي إلى الفتنة أفاده السيد وقد سبق والمراد بالعورة معناها اللغوى وهو العيب
الدر المختار (2/ 528)میں ہے:
( ولا تلبي جهرا ) بل تسمع نفسها دفعا للفتنة وما قيل إن صوتها عورة ضعيف
قال الشامي تحته : قوله ( دفعا للفتنة ) أي فتنة الرجال بسماع صوتها
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved