• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

باغبان اور بیوپاری کا اندازہ کرکے قیمت طے کرنا

استفتاء

ہمارا باغ کے پھلوں کا کاروبار ہے جس میں پھلوں کی بیع کی  مختلف صورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ پھل کی بیع کے لیے باغبان اور بیوپاری مل کر اپنا اندازہ لگاتے ہیں کہ اس باغ میں اتنی پیٹیاں مثلا 400 یا 500ہو سکتی ہیں پھر باہم اتفاق کر کے فی پیٹی کے حساب سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اندازہ لگائی گئی مقدار کے حساب سے رقم باغ والا وصول کرتا ہے اس صورت میں بعد میں اندازہ میں کمی بیشی کی صورت میں اسی کے مطابق رقم میں کمی یا زیادتی کی جاتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ طریقے سے معاملہ کرنا جائز ہے اور چونکہ پہلے ہی باہمی رضامندی سے طے ہوجاتا ہے کہ بعد میں کمی بیشی کے حساب سے قیمت میں  کمی بیشی ہوجائے گی لہذا بعد میں کمی بیشی بھی جائز ہوگی ۔

المحیط البرہانی (9/314) میں ہے:

وإذا اشترى الرجل عنب كرم على أنه ألف منٍ فلم يخرج منه إلا قدر تسعمائة، ‌فللمشتري ‌أن ‌يطالب البائع بحصة مائة مَن من الثمن؛ لأن البيع بقدر المائة المَن لم يصح لمكان العدم وصح بقدر التسعمائة المَنِّ فيطالب البائع بحصة ما لم يصح فيه البيع.

قالوا: على قياس قول أبي حنيفة: ينبغي أن يفسد العقد في الباقي؛ لأن العقد فسد في البعض بمفسد مقارن للعقد وهو العدم، والأصل عنده: أن العقد متى فسد في البعض بمفسد مقارن للعقد يفسد العقد في الباقي، وكان القاضي أبو الحسين قاضي الحرمين يروي عن أبي حنيفة في جنس هذا أن العقد فاسد في الكل، وبه كان يقول شمس الأئمة الحلواني وعليه كثير من المشايخ، وكان شمس الأئمة السرخسي يقول: بأن العقد فيما وجد صحيح عند الكل؛ لأن البائع ما ضم المعدوم إلى الموجود في البيع بل باع الموجود، وظن أنه مقدار معين وتبين أنه لم يكن ذلك المقدار، فبهذا لا يصير بائعا المعدوم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved