- فتوی نمبر: 36-90
- تاریخ: 22 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
ایک شخص نے سیمنٹ کی ایک بوری دکان سے نقد خریدی اور ثمن ادا کردیا۔پھر دکاندار سےکہا کہ میں پندرہ بیس منٹ بعد آپ سے سیمنٹ کی بوری لے جاؤں گا فی الحال یہیں رہے تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟یہ مبیع میں ادھار کہلائے گا یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: بیع کے وقت بوری متعین ہو جاتی ہے؟
جواب وضاحت: جی بوری متعین نہیں ہوتی بس ایک بوری کا سودا ہوجاتا ہے ،کیونکہ وہ ساری اکٹھی پڑی ہوئی تھیں۔
مزید وضاحت مطلوب ہے: کیا مارکیٹ میں عرفاً اتنی دیر کو ادھار مدت سمجھا جاتا ہے یا عرفاً نقد معاملہ ہی سمجھا جاتا ہے؟
عوام الناس وتجار میں اس کو نقد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ عرف میں مبیع میں تاخیر کے مسئلے کا علم ہی نہیں۔دکاندار کو نقد پیسے مل جائیں تو معاملہ نقد ہی شمار کیا جاتا ہے چاہے مبیع دینے میں تاخیر ہو یا نہ ہو۔ ایک ہے دکاندار کی طرف سے دس پندرہ منٹ کی تاخیر کہ وہ ثمن لے کر یوں کہہ دے کہ آپ بازار میں اور کام کرلیں پندرہ منٹ بعد بوری اٹھالیں، اورایک ہے مشتری کی طرف سے تاخیر جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔کیا ان دونوں صورتوں میں حکم کافرق ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت نقد ہی شمار ہوگی، اسے مبیع میں ادھار نہ سمجھا جائے گا۔نیز چاہے دکاندار کہے یا خریدار خود سے ایسا کرے ا س سے حکم میں کوئی فرق نہ پڑے گا۔
نوٹ : عام مطلق سودا جس میں مبیع یا ثمن کی تاجیل کا ذکر نہ ہو تو وہ نقد سودا ہی شمار ہوتا ہے مؤجل سودا وہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ مؤجل ہونا طے ہو جس میں اجل آنے سے پہلے دوسرے فریق کو مطالبہ کا اختیار نہیں ہوتا جبکہ سائل کی ذکر کردہ صورتوں میں عرفا ایسا نہیں ہوتا اس لیے وہ مشتری 15 منٹ سے پہلے بھی واپس آکر مطالبہ کرے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس نے وقت سے پہلے مطالبہ کردیا ہے ،اس لیے یہ مبیع میں ادھار شمار نہیں ہوگا ۔
شامی (4/531) میں ہے:
(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع
(قوله: وهو الأصل) ؛ لأن الحلول مقتضى العقد وموجبه والأجل لا يثبت إلا بالشرط بحر عن السراج
شرح المجلہ (2/166) میں ہے:
المادة 245) : البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح اي والتاجيل لازم فليس للبايع حبس المبيع حتي يقبضه ولا المطالبة به قبل حلول الاجل
المادة 251۔ البيع المطلق ينعقد معجلا لان الحلول مقتضى العقد وموجبه، والأجل لا يثبت إلا بالشرط (بحر عن السراج)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved