- فتوی نمبر: 35-314
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > زیب و زینت و بناؤ سنگھار
استفتاء
میرے بالوں کے آخری حصے بہت پتلے اور کمزور ہو جاتے ہیں اگرچہ بظاہر اسپلٹ اینڈز (دو شاخے) نظر نہیں آتے۔ کیا بالوں کی صحت وصفائی کے لئے میں صرف سروں کو تھوڑا سا تراش سکتی ہوں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بالوں کے سرے ایک آدھ پورے کے بقدر تراشنے کی گنجائش ہے۔
توجیہ: عورت کے لئے کسی غرض صحیح کی وجہ سے بقدر ضرورت سر کے بال کاٹنا جائز ہے اور بغیر غرض صحیح کے سر کے بال کاٹنا مردوں کی مشابہت کی وجہ سے جائز نہیں ہے مذکورہ صورت میں بالوں کے بقدر ضرورت (ایک، دو پورے کے بقدر) سرے تراشنے سے مقصود بالوں کی صحت ہے جوکہ غرض صحیح ہے لہٰذا مذکورہ صورت میں عورت کے لیے بالوں کے سرے بقدر ضرورت (ایک، دو پورے کے بقدر) تراشنے کی گنجائش ہے۔
الاشباہ مع الحموی (3/73) میں ہے:
وتمنع من حلق رأسهاوفي الحموي:وتمنع عن حلق رأسها اي حلق شعررأسها اقول ذکرالعلائي في کراهته انه لاباس للمرأة ان تحلق رأسها لعذر مرض ووجع وبغيرعذر لايجوز المراد بلابأس ههنا الاباحة لاترک مافعله اولي والظاهر ان المراد بحلق شعررأسها ازالته سواءکان بحلق او قص اونتف اونورة فيلحرروالمراد بعدم الجواز کراهة التحريم کما في مفتاح السعادة ولو حلقت فان فعلت ذلک تشبها بالرجال فهو مکروه لانها ملعونة
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر (4/203) میں ہے:
قطعت شعررأسها اثمت ولعنت…..والمعني المؤثر التشبه بالرجال (قوله اثمت)محمول علي مااذاقصدت التشبه بالرجال وان کان لوجع اصابها فلابأس به کذا في الهندية عن الکبري ويدل علي هذاالتقييد المعني الذي ذکره
شامی (9/498) میں ہے:
وفيه قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت…. والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اه. قوله (والمعنى المؤثر) أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
