- فتوی نمبر: 26-300
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
ہمارے گھر کے ساتھ ایک باغیچہ ہے جس میں کاشتکاری وغیرہ میرے دادا جی نے کی تھی جن کا انتقال سن2000ء میں ہوا ۔جبکہ خرچہ پورا میرے والد صاحب نے کیا ہےاور ہمارے ہا ں یہی معمول تھا کہ بڑے بھائی سب کا خرچہ اٹھاتے تھے لیکن بھائیوں میں سے اگر کوئی جائیداد خرید تا تو وہ اس کی ذاتی ملکیت سمجھی جاتی تھی ۔داداجی کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب اور میں نے باغیچہ میں خرچہ کے ساتھ محنت کی ہے ۔(باغیچہ کی زمین میرے داداجی کی نہیں تھی اور باغیچہ کی چاردیواری ، کنواں، مشین اور باقی پورا خرچہ میرے والد صاحب نے کیاہے لیکن چونکہ وہ ملک سے باہر کام کرتے تھے اس لیے وہ پیسہ میرے دادا جی کو بھیجتے تھے)
ایک بات اور ہےکہ اُس وقت ہمارےپورے گھر یعنی میرے تین چچاؤں ،دادا ،دادی اور ہم سب کا خرچہ میرے والد صاحب اٹھا تے تھے ۔ہمارے گھر کے صحن میں چاروں بھائیوں نے گھر تعمیر کیے ہیں ( یہ زمین بھی میرے داداجی کی نہیں ہے) جبکہ میرے والد صاحب کی تین بہنیں بھی ہیں اور انہیں گھر کے صحن میں حصہ نہیں دیا گیا ہے ۔ اب مسئلہ باغیچہ کے تقسیم کا ہے کہ آیا باغیچہ میں میرے چچاؤں اور انکی بہنوں کابھی حصہ ہے یا نہیں ؟ اور اگرتقسیم ہوگی؟توصرف درخت تقسیم ہوں گے یا زمین بھی ؟رہنمائی فرمائیں ۔
تنقیح : یہ زمین علاقے میں کسی کی ملکیت نہیں تھی البتہ جو آدمی بھی ایسی زمین پر کو ئی مکان بناتاہے یا کاشتکاری کرتاہے یا صرف قبضہ کر لیتاہےتو علاقے میں یہ زمین اس کی ملکیت سمجھی جاتی ہے ۔اورجس زمین پر گھر بنائے گئے ہیں وہ میرے چچاوں نے اپنے خرچے سے بنائے ہیں ۔باغیچے کے بارے میں میرے والد صا حب کی بہن ، بھائی کچھ طلب نہیں کر رہے البتہ ہمارے والدصاحب کا کہنا ہے کہ میں چاہتا ہوں ہر بھائی کو باغیچہ میں سے اپنا اپنا حق مل جائے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں باغیچہ کی زمین میں سب ورثاء(بشمول آپ کے والد کے ) اپنے اپنے شرعی حصوں کے بقدرشریک ہوں گےالبتہ باغیچہ کے درخت آپ کے والد کی ملکیت ہیں اس لیے ان درختوں میں باقی ورثاء شریک نہیں ہوں گے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں آپ کے دادا محض قبضہ کرنے سے مالک بن گئے ہیں جیسا کہ اس علاقے کا عرف ہے اس لیے یہ زمین ان کے سب ورثہ میں تقسیم ہوگی جبکہ درختوں کا خرچہ آ پ کے والد کےآ مدنی میں سے ہوا ہے اس لیے وہ صرف والدکی ملکیت ہوگی ۔
صحيح البخاری (رقم الحدیث،2335)میں ہے:
… عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن النبيﷺقال من أعمر أرضا ليست لأحد فهو أحق قال عروة قضى به عمر رضي الله عنه في خلافته.
بدائع الصنائع (8/303)میں ہے:
وأما بيان ما يثبت به الملك في الموات وما لا يثبت ويثبت به الحق فالملك في الموات يثبت بالإحياء بإذن الإمام عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى يثبت بنفس الإحياء وإذن الإمام ليس بشرط
درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام (المادة: 1309)میں ہے:
إذاعمرأحدالشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخرأي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه.
امداد الاحکام جلد (3/305)میں ہے :
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مشترکہ زمین میں ایک شریک نے باغ لگایا اور اس باغ نے تمام زمین کو گھیر لیا اور کوئی شیٔ زراعت کی اس زمین میں کوئی نہیں کرسکتا، ایسی حالت میں دوسرے شریک جنہوں نے باغ نہیں لگایا تو ان کو اراضی مذکورہ سے آمدنی حاصل نہیں ہوسکتی تو ثمرات باغ کا مالک محض باغ لگانے والا ہوگا یا سب شرکاء ثمر کے مالک ہوں گے اور درختوں کا مالک لگانے والا ہوگا یا سب شرکاء ہوں گے؟
الجواب :صورت مسئولہ میں درختوں کا مالک صرف لگانے والا ہی ہے، تمام شرکاء مالک نہیں، ہاں شرکاء کو یہ حق ہے کہ زمین کو تقسیم کرکے لگانے والے سے مطالبہ کریں کہ ہمارے حصہ زمین میں سے درختوں کو اکھاڑے نیز درخت لگانے سے اگر زمین ناقص ہوگئی ہو تو شرکاء اس زمین کے نقصان کا ضمان بھی اس سے لے سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved