- فتوی نمبر: 36-285
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
1.شوہر نے تین طلاقیں اکٹھی دیں بیوی حاملہ ہے تو کیا ڈلیوری کے ٹائم طلاق ہوگی؟
2.کیا اتنا ٹائم میاں بیوی ایک گھر میں رہیں گے؟
3.شرعی تعلق قائم رکھیں گے؟
4.کیا صحبت بھی کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1.2.3.4۔ مذکورہ صورت میں طلاق تو طلاق دیتے ہی واقع ہوگئی ہے تاہم عدت ڈلیوری (بچہ پیدا ہونے ) تک رہے گی اور عدت تک عورت شوہر کے گھر رہے گی لیکن ایک کمرے میں رہنا اور شرعی تعلق قائم کرنا یا صحبت کرنا جائز نہ ہوگا۔
1۔درمختار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
البحر الرائق (4/157) میں ہے:
(قوله ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت) يعني ابتداء عدة الطلاق من وقته وابتداء عدة الوفاة من وقتها سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم حتى لو لم تعلم ومضت مدة العدة فقد انقضت؛ لأن سبب وجوبها الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب
شامی (3/232) میں ہے:
(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل
شامی (3/511) میں ہے:
(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) .
2۔ الجوہرۃ النیرۃ (2/80) میں ہے:
(قوله وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت) هذا إذا كان الطلاق رجعيا أما إذا كان بائنا أو ثلاثا فلا بد من سترة بينها وبين الزوج
3،4۔ فتح القدیر (4/177) میں ہے:
(وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها)
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
آپ کے مسائل اور ان کا حل (5/364) میں ہے:
س… زید نے اپنی بیوی کو چار عورتوں کے سامنے ایک نشست میں تین دفعہ کہا کہ: ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں“ اور عورتوں کو کہا کہ تم گواہ رہنا۔ ایک دفعہ جب طلاق دینے کو کہا تو زید کی ماں نے زید کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، کچھ دیر بعد جب ہاتھ ہٹایا تو زید نے پھر دو دفعہ کہا کہ: ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں“ اور زید کی بیوی چھ ماہ کی اُمید سے ہے، ایسی صورت میں زید کی بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟ کیا یہ دوبارہ میاں بیوی بن سکتے ہیں؟
ج… زید پر اس کی بیوی حرام ہوگئی، اب نہ تو رُجوع جائز ہے اور نہ ہی حلالہ شرعی کے بغیر عقدِ ثانی ہوسکتا ہے۔ زید کی بیوی کی عدّت بچے کا پیدا ہونا ہے، جب بچہ پیدا ہوجائے گا عدّت پوری ہوجائے گی، عدّت بعد زید کی بیوی اگر کسی دُوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ حالتِ حمل میں بھی اگر کوئی طلاق دے دے تو واقع ہوجاتی ہے، اس لئے زید کی بیوی اگرچہ حاملہ ہے پھر بھی زید کے طلاق دینے سے مطلقہ ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved