• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چاول گاہنے کے عوض میں چکی والے کو بھوسہ دینا

استفتاء

ہم دھان سے چاول نکالنے کے لیے چکی والے کے پاس لے جاتے ہیں ،چکی والے چاول صاف کرکے صاف چاول ہمیں دےدیتے ہیں اور اس کے عوض میں اس کے چھلکے (بھوس) کو اپنے پاس رکھ لیتےہیں ۔

کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ کیا یہ قفیز طحان میں تو داخل نہیں ہے؟

وضاحت مطلوب ہے:چکی والے سے اجرت کے طورپر کیا  طےجاتا ہے ؟نیزکیا یہ آپ کے علاقے کا عام رواج ہے یا بعض چکی والے ایسا کرتے ہیں ؟

جواب وضاحت:یہ بات پہلے سے معلوم ہوتی ہے کہ بھوسہ چکی والا لے گا،اور ہمارے علاقے (بنوں)میں اس کا عام عرف و رواج ہے۔جن لوگوں کی اپنی مشین ہوتی ہے وہ تو اپنا بھوسہ اپنے پاس ہی رکھتے ہیں لیکن جو لوگ چکی پر جاتے ہیں ان کا چکی والوں سے یہی معاملہ ہوتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت  اگرچہ قفیز طحان  کے معنی میں ہے لیکن چونکہ اس کا آپ کے علاقے میں عام عرف ہے اس لیے مذکورہ صورت جائز ہے۔

تبيين الحقائق (باب الإجارة الفاسدة: 5/130)میں ہے:

ومشايخ بلخ والنسفي يجيزون حمل الطعام ببعض المحمول، ونسج الثوب ببعض المنسوج لتعامل أهل بلادهم بذلك، ومن لم يجوزه قاسه على قفيز الطحان، والقياس يترك بالتعارف، ولئن قلنا أنه ليس بطريق القياس بل النص يتناوله دلالة فالنص يخص بالتعارف.

رسائل ابن عابدين (47/1)  میں ہے:

قال في الذخيرة ۔۔۔۔ في مسئلة ما لو دفع الي حائك غزلا لينسجه بالثلث ومشائخ بلخ كنصير بن يحيي ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يجيزون هذه الاجارة في الثياب لتعامل اهل بلدهم في الثياب والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الاثر وتجويز هذه الاجارة في الثياب بمعنى تخصيص النص الذي ورد في قفيز الطحان لان النص ورد في قفيز الطحان لا في الحائك الا ان الحائك نظيره فيكون واردا فيه دلالة فمتى تركنا العمل بدلالة هذا النص في الحائك وعملنا بالنص في قفيز الطحان كان تخصيصا لا تركا وتخصيص النص بالتعامل جائز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved