- فتوی نمبر: 26-353
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
ایک شخص نے چوری کی بجلی استعمال کی اور اس سے اپنے کاروبارمیں استفادہ کیا ،مثلاً چوری کی بجلی سے مشین چلائی،اب اس شخص نے توبہ کرلی ہے اور آئندہ وہ چوری کی بجلی استعمال نہیں کرے گا ۔اس کاروبار سے اس شخص نے جو مال کمایا ہے کیا وہ حلال ہے؟اگر نہیں ہے تو اس کو حلال کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بجلی چوری کرنا حرام ہے لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں بجلی اس کمائی کے لئے صر ف بطور آلہ استعمال ہوئی ہے لہذا اس کی وجہ سے حاصل ہونے والی کمائی حرام نہیں ہے البتہ اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ جتنی بجلی چوری کی ہے اس کے بقدر روپے حکومت کو واپس کرے جس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اتنے پیسوں کے ٹرین کےٹکٹ خرید کر پھاڑ دیے جائیں اور اگر رقم زیادہ ہے تو تھوڑا تھوڑ اکرکے بھی ایسا کرسکتے ہیں۔
امداد الفتاوٰی (3/524)میں ہے:
سوال: اگر چند شریک زراعت کریں ، ان میں سے بعض کے بیل بقیمت حلال خرید کئے ہوں ، اور بعض کے بقیمت حرام ، تو جس کا بیل حلال قیمت سے ہے اس کی شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی غلّہ مشترک جو کہ زراعت سے حاصل ہوا ہے تقسیم کے بعد حلال ہوگا یا حرام؟
الجواب: اگر بیل حرام مال کے بھی ہوں ، مگر چونکہ وہ پیداوار کا آلہ ہے جزو نہیں ہے اس لئے پیداوار میں حرمت نہ آوے گی، اور غلّہ مشترک حلال ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved