- فتوی نمبر: 26-159
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
STC(سائنٹیفک ٹیکنیکل کارپوریشن)***لاہور میں واقع ہے، بنیادی طور پر STCکی طرف سے لیبارٹری کے آلات (انسٹرومنٹس) امپورٹ کئے جاتے ہیں اور پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔
بعض دفعہ STC کے ذمہ ایکسپورٹر کمپنی کے کچھ قرض کی ادائیگی لازم ہوتی ہے تو:
(۱)STC کی طرف سے اپنی کمیشن کی رقم اس مد میں کٹوا دی جاتی ہے،(۲) یا کسی دوسری کمپنی کو جس کی کچھ ادائیگی STCکے ذمہ باقی ہوتی ہے مذکورہ کمپنی جس کے پاس STCکا کمیشن جمع ہو چکا ہے ان کے ذریعے ادائیگی کروا دی جاتی ہے ،(۳)یا STC خود کمیشن کی رقم وصول کر لیتی ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایکسپورٹر کمپنی بینک کے ذریعہ سے وہ کمیشن STC کو بھیج دیتی ہے یا STCبیرون ملک جا کر وہ رقم وصول کر لیتی ہے ،(۴)اور بعض اوقات STCنے اس کمپنی سے آئندہ کوئی چیز خریدنی ہوتی ہے تو کسی معاملے میں حاصل ہونے والا کمیشن آئندہ معاملے کی پیشگی ادائیگی کے طور پر کمپنی کے پاس رہنے دیاجاتا ہے۔
1۔مذکورہ صورت میں (۱)STCکا ایکسپورٹر کمپنی سے کمیشن کی رقم لیے بغیر، اس کمپنی کو اپنے پہلے قرض کی ادائیگی میں کٹوانا (۲)یا کسی دوسری کمپنی کے قرض (جو STCکے ذمہ اس دوسری کمپنی کا لازم ہے) کی ادائیگی اس ایکسپورٹر کمپنی کو کہہ کر اپنے کمیشن کی رقم سے کروانا جائز ہے؟
2۔کیا STCکا(۱)بینک کے ذریعے اپنا کمیشن وصول کرنا (۲)یا اسی کمیشن کی رقم کو آئندہ کے نئے معاملے کے لیے اس کمپنی کے پاس پیشگی ادائیگی کے طور پر رہنے دینا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں(۱) STCکا کمیشن کی رقم لیے بغیر ایکسپورٹر کمپنی کو اپنے پہلے قرض کی ادائیگی میں کٹوانا (۲)یا کسی دوسری کمپنی کے قرض (جو STCکے ذمہ اس دوسری کمپنی کا لازم ہے) کی ادائیگی اس ایکسپورٹر کمپنی کے ذریعے سے کروانا دونوں جائز ہیں۔
2۔STCکا(۱) بینک کے ذریعے اپنا کمیشن وصول کرنا جائز ہے۔ (۲)اسی طرح اسی کمیشن کی رقم کو آئندہ کے نئے معاملے کے لیے اس کمپنی کے پاس پیشگی ادائیگی کے طور پر رہنے دینا بھی جائز ہے۔
الدر المختار (4/266) میں ہے:
وصح بيع من عليه عشرة دراهم دين ممن هى له اى من دائنه فصح بيعه منه دينارا بها اتفاقا و تقع المقاصة بنفس العقد اذ لا ربا فى دين سقط أو بيعه بعشرة مطلقة عن التقييد بدين عليه ان دفع البائع الدينار للمشترى و تقاصاالعشرة الثمن بالعشرة الدين ايضاً استحسانا
ردالمحتار (4/250)میں ہے:
قوله: (أنه مبادلة حکمية) وجهه ما قالوا ان الدين يقضى بمثله و تقع المقاصة، فقابض الدين أخذ بدل ما تحقق فى ذمة المدين.
البحرالرائق(146/7)میں ہے:
قوله ( وبإيفائها واستيفائها إلا في حد وقود) أي يصح التوكيل بإيفاء جميع الحقوق واستيفائها إلا بالحدود والقصاص لأن كلا منها يباشره الموكل بنفسه فيملك التوكيل به بخلاف الحدود والقصاص فإنها تندرىء بالشبهات والإيفاء من أوفيت به إيفاء وأوفيته حقه ووفيته إياه بالتثقيل كذا في المصباح والمراد به هنا دفع ما عليه
الدر المختار(7/392) میں ہے:
وجاز التصرف في الثمن…… قبل قبضه…… و کذا لحکم فى کل دين قبل قبضه کمهر و اجرة و ضمان متلف……… والحاصل جواز التصرف في الاثمان و الديون کلها قبل قبضها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved