- فتوی نمبر: 35-199
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
تجارت کی یہ صورت کہ جس میں کسی مالک سے مال لے کر بیچا جائے اور منافع رکھ کر اصل طے شدہ رقم مالک کو آہستہ آہستہ واپس کر دی جائے لیکن لیتے ہوئے وہ مال باقاعدہ خریدا نہ جائے اور نہ اُدھار پر لیا جائے مثلاً برتن، الیکٹریکل چیزیں، مشینری،پلاسٹک کا سامان وغیرہ وغیرہ۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت مطلوب ہے: پورا معاملہ تفصیل سے ذکر کریں اتنی بات سے معاملہ واضح نہیں ہوا۔
جواب وضاحت: ہماری دکان جس پر والد اور چچا دونوں مشترکہ بیٹھتے ہیں،وہاں دوسرے سامان کے ساتھ ساتھ لوہے کی چادر کے ٹرنک،پیٹی اور آٹے والی ڈرمیاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔یہ مال اسی بازار میں موجود ایک بندے سے لیا جاتا ہے اور جب کوئی آئٹم بکتی ہے تو اپنا نفع نکال کر مالک(مال بنانے والے) کو اس کی رقم دے دی جاتی ہے اس کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ مال باقاعدہ نقد یا اُدھار اپنے قبضے میں نہیں لیا جاتا۔مثلاً ایک پیٹی اگر 35000 کی ہے تو اس کو بیچ کر ہی اس کے پیسے مالک کو دیئے جائیں گے۔وہ چاہے تو واپس بھی اٹھا سکتا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔مالک سے مال لیتے ہوئے طے ہو جاتا ہے کہ دکاندار کو یہ مال کتنے میں ملے گا؟ 2۔دکاندار کتنے میں بیچے گا یہ اس کی مرضی پر ہوتا ہے یا پہلا مالک طے کرتا ہے؟
جواب وضاحت: 1۔ جی طے ہوتا ہے 2۔ دکاندار کی مرضی پر ہوتا ہے وہ جتنے کا بیچے نفع سارا اس کا ہوتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت فقہ حنفی کی رُو سے تو جائز نہیں البتہ فقہ حنبلی کی رُو سے جائز ہے۔ اس لیے یہ صورت اختیار نہ کی جائے البتہ جہاں ایسی صورت کا عرف ہو وہاں فقہ حنبلی کے پیش نظر اس کی گنجائش ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت بعه بعشرة فمازاد فهو لك کی بنتی ہے جو حنفیہ کے نزدیک تو جائز نہیں البتہ حنابلہ کے نزدیک جائز ہے اور جہاں ایسی صورت کا عرف ہو وہاں مذہب حنبلی پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
صحیح البخاری (3/ 92) میں ہے:
باب أجر السمسرة ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأسا وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به وقال النبي صلى الله عليه وسلم المسلمون عند شروطهم
عمدة القاری شرح صحیح البخاری (18/ 285) میں ہے:
وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك
هذا التعليق وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس نحوه
وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به
هذا التعليق أيضا وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن يونس عن ابن سيرين وفي ( التلويح) وأما قول ابن عباس وابن سيرين فأكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع وممن كرهه الثوري والكوفيون وقال الشافعي ومالك لا يجوز فإن باع فله أجر مثله وأجازه أحمد وإسحاق وقالا هو من باب القراض وقد لا يربح المقارض
الشرح الکبیر لابن قدامہ (5/ 258) میں ہے:
ولو قال بع ثوبي بعشرة فما زاد فلك صح نص عليه، وروي ذلك عن ابن عباس وهو قول ابن سيرين واسحاق وكرهه النخعي وحماد وأبو حنيفة والثوري والشافعي وابن المنذر لانه أجر مجهول يحتمل الوجود ولنا ان عطاء روى عن ابن عباس أنه كان لا يرى بأسا ان يعطي الرجل الرجل الثوب أو غيره فيقول بعه بكذا فما ازددت فهو لك ولا يعرف له في عصره مخالف فكان إجماعا لانها عين تنمي بالعمل عليها أشبه دفع ماله مضاربة.
المغنی (5/ 270) میں ہے:
فصل : إذا قال بع هذا الثوب بعشرة
فصل : إذا قال بع هذا الثوب بعشرة فما زاد عليها فهو لك صح واستحق الزيادة وقال الشافعي : لا يصح ولنا أن ابن عباس كان لا يرى بذلك بأسا ولأنه يتصرف في ماله بإذنه فصح شرط الربح له في الثاني كالمضارب والعامل في المساقاة
غیر سودی بینکاری از مفتی تقی عثمانی(288)میں ہے:
اورمیں نے اپنے والد ماجد حضرت مفتی صاحب قدس سرہ سے حضرت حکیم الامہ رحمہ اللہ کا یہ ارشاد بارہا سنا کہ میں نے ابو حنیفہ عصر حضرت مولانا صاحب گنگوہی رحمہ اللہ سے اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ خاص طور پر معاملات کے باب میں جہاں ابتلاء عام ہو وہاں چاروں ائمہ میں سے جس امام کے مذہب کی گنجائش نکلتی ہو وہاں وہ گنجائش دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
