- فتوی نمبر: 35-326
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
ملر اینڈ فپس ایک ڈسٹری بیوٹر کمپنی ہے جوکہ عر صہ 2015 سے ایزی پیسہ کیساتھ کام کررہی ہے جس کا کام ایزی پیسہ کے تمام ریٹیلرز کو ان کے ریٹیلر اکاؤنٹ میں کیش مہیا کرنا ہے ، 16 مارچ 2026 تک ایزی پیسہ ملر اینڈ فپس کو کمیشن دیتا رہا ہے جس سے ملر اینڈ فپس کی ضروریات پوری ہورہی تھیں ، 16 مارچ 2026 کے بعد سے ایزی پیسہ نے اپنا سسٹم کافی تبدیل کرلیا ہے جس کی وجہ سے اب دکان دار اور ڈسٹری بیوٹر ملر اینڈ فپس کو کمیشن نہیں ملتا ، دکان دار ملر اینڈ فپس کے ساتھ بزنس پارٹنر کے طور پر کام کررہا ہے ، دکان دار اب اپنا کمیشن 5 روپے سے لے کر 10 روپے تک سروس چارجز کی مَد میں کسٹمر سے لے لیتا ہے اور ملر اینڈ فپس کی طرف سے بھی دکان دار کو روزانہ کا بیلنس کمیشن کے بغیر فراہم کیا جاتا ہے۔
البتہ درج ذیل ترتیب سے دوکاندار سے ملر اینڈ فپس اپنے سروس چارجز لیتی ہے۔
50ہزار پر 50 روپے۔
1لاکھ پر 100 روپے۔
2لاکھ پر 300 روپے۔
4لاکھ پر 400 روپے۔
یہ سروس چارجز ملر اینڈ فپس دکان دار سے وصول کرتا ہے جو دکان دار اپنے پاس سے ملر اینڈ فپس کو ادا کرتا ہے اگر ملر اینڈ فپس یہ سروس جارجز نہیں لیتا تو ملر اینڈ فپس اپنا یہ ڈپیارٹمنٹ بند کردے گا۔ ملر اینڈ فپس جو بیلنس دکان دار کو فراہم کرتا ہے کئی دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ دکان دار اس کا بیلنس لے کر بھاگ گیا جس کی رقم 2015 سے لیکر اب تک 6836634 روپے بنتی ہے جو کہ ابھی تک ریکور نہیں ہوئی ہے۔ہماری کمپنی ملر اینڈ فپس یہ کاروبار بند کرنے لگی تھی لیکن سروس چارجز کی وجہ سے ابھی تک کام جاری رکھا ہوا ہے۔
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ملر اینڈ فپس کے لیے دکاندار سے یہ سروس چارجز وصول کرنا حلال ہے یا سود کے زمرے میں آتا ہے؟ کیونکہ بعض دکاندار ہمیں کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں۔ اگر سود کے زمرے میں آتا ہے تو رہنمائی فرمائیں کہ ہم کیا کیا چیزوں کو تبدیل کریں کہ یہ جائز ہوجائے۔
سوال:آپ کا ایزی پیسہ سے ایگریمنٹ کیا ہے؟
جواب: ایگریمنٹ 12 سال پہلے ہوا تھا اور ڈسٹری بیوشن کا ہوا تھا اس وقت ایزی پیسہ کمپنی ڈسٹری بیوٹر (ملر اینڈ فپس ) کو کمیشن دیتی تھی تو ہمارا گذارا ہوجاتا تھا اس وقت ریٹیلر کو 80 فیصد اور ملر اینڈ فپس کو 20 فیصد آتا تھا جوکہ اب بالکل 0 فیصد کردیا گیا ہے۔
تنقیح از مجیب: (1)مذکورہ کمپنی کے ایک سے بندہ کی بات ہوئی ہے جس کے مطابق اب بھی ملر اینڈ فپس ایزی پیسہ کی ڈسٹری بیوشن کمپنی ہی شمار ہوتی ہے اور انہی کے Behalf پر کام کرتی ہے اور مثلا اگر کسی ریٹیلر کو ملر اینڈ فپس سے کوئی شکایت ہوگی تو وہ ایزی پیسہ سے شکایت کرے گا کہ آپ کی ڈسٹری بیوٹر کمپنی ایسا کررہی ہے نیز ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے پر کمپنی صارف سے جو کمیشن لیتی ہے اس میں ملر اینڈ فپس کو کمیشن ملتی ہے اگرچہ وہ بہت معمولی مقدار ہے۔
(2) کمپنی کے نمائندے سے مزید بات چیت کرنے پر یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کمپنی کی جانب سے ریٹیلر کو دی جانے والی سروس یہ ہے کہ جن ریٹیلرز کو کام کے لیے اپنے اکاؤنٹ میں ادھار پیسے چاہیے ہوتے ہیں وہ ملر اینڈ فپس کمپنی سے لیتے ہیں اور ایک دن کا وقت ہوتا ہے چنانچہ اگلے دن وہ پیسے واپس کردیتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چونکہ ملر اینڈ فلپس کمپنی کی طرف سے دی جانے والی سروس صرف یہ ہے کہ ریٹیلر کو ادھار دیتے ہیں اور صرف ادھار دینا کوئی ایسا کام نہیں جس پر اجرت لی جاسکے بلکہ یہ سود کی شکل ہے لہذا کمپنی کے لیے ریٹیلر سے اس پر کمیشن لینا جائز نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
