- فتوی نمبر: 32-273
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
میری شادی کو ایک سال ہوا ہے ، میرے خاوند ۲۰۱۱ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، میں اپنی ساس کے ساتھ ۱۵ اکتوبر کو عمرے کے لیے گئی تھی، وہاں پر ۱۸ اکتوبر کو میر اریاض الجنہ کا پر مٹ تھا، وہاں پر پرمٹ میرے نام کا تھا، اور میری ساس بھی میرے ساتھ تھیں، جن کا پر مٹ نہیں تھا، وہ میرے ساتھ داخل نہ ہو سکیں، جس کی وجہ سے ان کو باہر انتظار کرنا پڑا، اور وہاں وہ گم ہو گئیں، جو میرے شوہر کو ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد ملیں، اس بات پر میرے خاوند مجھ سے ناراض ہوئے، اور مسجد کے اندر ہی میر اموبائل بھی توڑ دیا۔اس کے دو دن بعد میری ساس کا پر مٹ تھا، میں ان کو ریاض الجنہ چھوڑ کر گیٹ نمبر ۳۲ کا کہہ کر گئی، وہاں پر پہنچی تو عورتوں کا وقت ختم ہو چکا تھا، میں گیٹ نمبر ۲۵ پر چلی گئی، اور مین گیٹ کے سامنے بیٹھ گئی، اور کسی ورکر سے فون لے کر بتایا کہ میں گیٹ نمبر ۲۵ کے باہر بیٹھی ہوں، وہ آئے مجھے تلاش نہ کر سکے ، جب مجھے دیکھا تو بہت غصے میں آگئے ، اور کہا: کہ میں تمہیں سبق سکھاتا ہوں، اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ الفاظ کہے : میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ، اور مزید بھی باتیں کی۔یہ سب واقعہ ہونے کے اگلے ہی دن صبح کے وقت مسجد نبوی کے گیٹ نمبر ۱۲ پر بالائی منزل پر آفس میں مفتی صاحب سے ملے ، اور اردو ترجمان کی موجودگی میں تمام معاملہ گوش گزار کیا، انہوں نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور اس کے بعد ” مجمع خادم حرمین الشریفین الملک سلمان عبد العزیز آل سعود للحديث النبوى الشريف ” میں بھیج دیا کہ سعودیہ کے مفتی اعظم سے فتویٰ لے لیں۔ اگر وہاں سے نہ آئے تو مسجد النبوی کے مفتی فتویٰ دے دیں گے۔اس کے بعد ۲۳ اکتوبر کو ہم مسجد نبوی کے نزدیک پولیس سٹیشن گئے، وہاں پر پہلی جگہ پر عربی اور انگلش میں تفصیلات پوچھی گئیں، پھر انگلش سے عربی مترجم کو بلایا گیا، اور اس کے سامنے ہم دونوں سے تفصیلات پوچھی گئیں، اور بتایا گیا کہ فتوی مفتی صاحب دیں گے ، اور دو نومبر کو ہمیں فتوی ملا، جس کی کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے۔ فتوی ملنے کے بعد میری بڑی ہمشیرہ نے میرے خاوند سے فون پر بات کی، اور پوچھا: کہ جس وقت آپنے یہ الفاظ منہ سے نکالے اس وقت آپ جانتے تھے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ؟ تو جواب ملا کہ یہ انسان جانتا ہی ہے، کہ وہ کیا بولتا ہے، لیکن پانچ منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے کیا کیا ہے۔میرے شوہر کی کیفیت یہ ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو ان پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ نہ کسی کی بات سنتے ہیں اور نہ انہیں کسی بھی بات کی سمجھ آتی ہے اور جنون کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، الرجی اور ناک کی ہڈی بڑھنے کی وجہ سے ہر وقت زکام رہتا ہے اور بی بی ہر وقت لو رہتا ہے ذہن پر غبار چھایا رہتا ہے، ہاتھ کانپتے رہتے ہیں اور مسلسل 7 ماہ سے نائٹ ڈیوٹی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری تحقیق میں مذکوہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اگرچہ شدید غصہ کی حالت میں طلا ق واقع نہیں ہو تی مگر شدید غصہ کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کوطلاق دیتے وقت یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیاکہہ رہاہے جبکہ مذکورہ صورت میں غصہ اس نوعیت کا نہیں تھا کہ شوہر کو معلوم ہی نہ ہو رہا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے باقی جس طہر (پاکی کے زمانے ) میں شوہر نے ہمبستری کی ہو اس میں طلاق دینا اگرچہ منع ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی نےطلاق دے دی تو وہ طلاق ہوجائے گی۔
الدرمختار مع ردالمحتار (4/510)میں ہے:
فروع:كرر لفظ الطلاق وقع الكل وان نوى التأكيد دين
قوله:(كرر لفظ الطلاق)بأن قال للمدخولة:انت طالق انت طالق او قد طلقتك قد طلقتك او انت طالق قد طلقتك او انت طالق و انت طالق۔۔۔۔۔۔۔۔قوله:(وان نوى التأكيد دين)اى:وقع الكل قضاء
شامی (4/439)میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش
بدائع الصنائع(3/295)میں ہے:
اما الطلقات الثلاث فحكمها الاصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية ايضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل(فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره)سواء طلقها ثلاثا متفرقا او جملة واحدة۔الخ
ہندیہ(1/ 349)میں ہے:
والبدعي) من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه وكان الطلاق واقعا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved