• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حالتِ صحت میں کسی وارث کو مکان دینا

استفتاء

کیا فرما تے ہیں   علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں

خالد نے  اپنا پرانا گھر فروخت  کیا اسکی رقم سے  نیا  گھر  خرید  کر اپنی بیوی  کے نا م رجسٹری کروادی  اور کہا یہ گھر میں نے آپ  کو دے دیا ۔پھر خالد  کا انتقال  ہو گیا اس کے ورثاء  میں ایک بیٹا تین  بیٹیا ں اور ایک اس کی بیوہ  (جس کے نا م رجسٹری کرائی  تھی ) موجود تھے وہ مکا ن  بیوی کے پاس ہی رہا ۔ خالد کی بیوہ نے  اپنی زندگی  میں حالتِ صحت میں    وہ مکان  اپنے بیٹے  اور بڑی بیٹی کے نام کروادیا اور  ان  کے سپر  د بھی کردیا ۔ بیٹے نے اس میں  نئی   عمارت اور  دکانیں وغیر ہ  بنوائی ۔ اب خالد کی بیوہ کا انتقال ہو اہے ۔ پوچھنا یہ ہے  کہ شرعی طور پر وہ گھر تمام  ورثا ء میں تقسیم ہو گا یا صرف انہی دو بہن  اور بھا ئی  کا ہے جن کو والدہ  نے اپنے  زندگی  ہی میں رجسٹری کروادی اور قبضہ بھی دیا ۔

تنقیح :  ماں کم وبیش ۱۰ سا ل  تک فالج کی  بیماری کی وجہ سےصاحب ِ فراش  رہی ہے  اس کی خدمت بڑی  بیٹی اور بیٹے  نے کی ہے ۔ اس مکا ن  کے علاوہ  اس  کی  تقریباً  جو کچھ مالیت تھی وہ علاج  پر خرچ  ہوئی اور  اپنی مالیت  کے علاوہ جو رقم خرچ ہو ئی  ہے اس کا نتظا م  بیٹے اور بڑی بیٹی نے مل کر کیا یہ بات تمام اولاد  تسلیم کرتی ہے ۔

باقی بہنوں  کا مؤقف  مکا ن کے متعلق  یہ ہے اگر شرعی طور  پر ہمارا حصہ بنتا ہے  تو ہم لیتی ہیں ورنہ  نہیں ۔

1۔زینب (دستخط)

2۔ فاطمہ (دستخط)

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں یہ مکان صرف ایک بہن بھائی کی ملکیت   ہے  اور دونوں کو آدھاآدھا ملے گا ۔باقی ورثاء کا اس میں حق نہیں  ہے ۔

توجیہ :مذکورہ  مکان والدہ نے چونکہ حالتِ صحت میں اپنے بیٹی اور بیٹے کو  ہدیہ کیا   ہے اس لیے یہ مکان صرف ان دو بھائی بہن کی ملکیت ہے  اس میں کسی اور کا حق نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved