• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حق مہر میں بطور مہر حج لکھوایاتو طلاق کی صورت میں حج کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

میرے بیٹے کی شادی دسمبر 2023 میں ہوئی اور نکاح سے پہلے ہمارے مابین دو لاکھ مہر طے پایا تھا لیکن عین نکاح کے وقت بچی نے دو لاکھ شرعی حق مہر  کے ساتھ حج کا بھی کہہ دیا کیونکہ میرا بیٹا سعودیہ میں جاب کرتا ہے  اور بچی نے بھی  شادی کے بعد  وہیں چلے جانا تھا اس لیے اس پر  اعتراض نہیں  کیا کہ وہیں  پر حج کر لیں گے،  بچی وہاں اقامہ پر  چلی گئی   اور عمرہ بھی بیٹے نے کروادیا لیکن چار مہینے بعد ہی  بچی  واپس آگئی  کچھ اختلافات اور اللہ  کے حکم سے شادی ختم ہوگئی اب ہم نے دو لاکھ شرعی حق مہر تو ادا کر دیا۔لیکن حج کے حق مہر کے بارے میں میں نے کئی  مفتی صاحبان سے رابطہ کیا سب کی  الگ رائے  ہے کچھ کہہ رہے ہیں کہ  ادا کرنا پڑے گا۔ کچھ کی رائے ہے کہ  حج نہیں  لکھ سکتے۔  برائے مہربانی آپ رہنمائی فرمائیں کہ آیا حج بطور حق مہر لکھ سکتے ہیں؟ اور اگر لکھ دیا گیا ہو تو کیا ہمیں ادا کرنا ہوگا؟ کیونکہ ہم نہیں  چاہتے ہماری طرف سے کسی سے زیادتی ہو جائے ۔

وضاحت مطلوب ہے:1۔ حق مہر میں حج کہنے کا کیا مطلب ہے؟اس وقت کیا بات طے ہوئی تھی؟وہ بتائیں اور نکاح نامہ میں کیا لکھا ہے؟ 2۔نکاح نامہ کی تصویر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: سر ہمارے اور بچی  کے والدین کے مابین نکاح سے پہلے دو لاکھ حق مہر طے پایا تھا۔عین نکاح کے وقت جب نکاح خواں نے دو لاکھ حق مہر مینشن کیا تو اسی وقت بچی نے کہا حق مہر میں دو لاکھ کے ساتھ حج بھی لکھیں۔ہم نے اس بات پر اعتراض نہیں  کیا ۔ہم یہ سوچ کر خاموش رہے کہ بچی نے شادی کے بعد سعودیہ میرے بیٹے کے پاس چلے جانا تھا تو وہیں  رہتے ہوئے بیٹے نےحج کروا دینا تھا۔سر کچھ معاملات کے لیے ہم  نے لڑکی والوں سے نکاح نامہ مانگا کیونکہ انہوں نے ہمیں دو کاپیاں  سینڈ کیں۔یہ بھی ہمارے لیے کنفیوزنگ ہے کہ ایک کاپی پر حج + لکھا ہوا ہے اور ایک کاپی پر صرف حج لکھا ہوا ہے۔2۔ ساتھ لف ہے۔متعلقہ عبارت درج ذیل ہے:

۱۳۔ مہر کی رقم            حج+200000

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں دو لاکھ مہر کے ساتھ ساتھ  متوسط درجے  کے حج  کا خرچہ بھی  شوہر پر لازم ہوگا۔

توجیہ : اگر شوہر مہر میں صرف حج کو ذکر کرے تو درمیانے درجے کے  حج  کا خرچہ شوہر پر  لازم ہوگا جیسا کہ درج  ذیل حوالوں میں” على حجة” سے معلوم ہو رہا ہے۔

خزانۃ الاکمل (1/478) میں ہے:

لو تزوجها على حجة أو على أن احجك فلها قيمة حجة وبالطلاق قبل الدخول نصف قيمة حجة أما لو قال أن أحج بك فلها مهر مثلها.

البحر الرائق (3/168) میں ہے:

وأشار المصنف إلى أنه لو تزوجها ‌على ‌أن ‌يحج بها وجب مهر المثل لكن فرق في الخانية بين أن يتزوجها ‌على ‌أن ‌يحج بها وبين أن يتزوجها على حجة فأوجب في الأول مهر المثل وفي الثاني قيمة حجة وسط

البنایہ شرح الہدایہ (5/175) میں ہے:

‌تزوجها ‌على ‌حجة أو على أن يحجها فلها قيمة حج وسط وهو الحج على الراحلة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved