• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

انتظامیہ کی تبدیلی کی وجہ سے اسکول چھوڑنے پر بقیہ فیس کی واپسی

استفتاء

میری بچی ایک سکول میں دو سال سے جا رہی تھی اور یہ  اس کا تیسرا سال ہے تیسرے سال کی ابتدا میں ہی انہوں نے سالانہ چارجز لے لیے اور فیس بھی ہر مہینے کی میں ان کو ادا کرتی رہی دو مہینوں کی فیس جن میں چھٹیاں ہوئیں ان کی فیس بھی میں دیتی رہی جو والدین سے اس لیے لیے جاتے ہیں  کہ سکول والے بچوں کو پورے سال میں پڑھائیں گے لیکن چھٹیوں کے فورا بعد سکول والوں نے سکول کسی اور کو بیچ دیا  اور نہ صرف سارا عملہ بدل دیا بلکہ ماحول وغیرہ بھی تبدیل ہو گیا جس کی وجہ سے بہت سارے والدین نے  جن میں میں بھی شامل ہوں سکول تبدیل(Change)   کروا دیا۔ دوسرے سکول میں تمام چارجز والدین نے علیحدہ ادا (Pay)  کیے۔ جس سکول میں ڈالا گیا تھا اس کا ماحول اسلامک تھا عملہ بھی پردے کا پابند تھا مگر انہی اسلامی لوگوں نے جن کو سکول بیچ دیا ان کا ماحول اور عملہ بالکل ان رولز کے برعکس تھا۔

میرا سوال یہ ہے کہ جن والدین نے سالانہ چارجز اور چھٹیوں کی فیس ادا کی ہے ان کو واپسی کا مطالبہ جائز ہے؟ اور سکول والوں کو وہ  سالانہ چارجز اور چھٹیوں کی فیس ادا کرنی چاہیے والدین کو؟ یہ میرا سوال ہے اس میں رہنمائی کریں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چھٹیوں کی فیس اور  سالانہ فیس    میں سے جتنے ایام  باقی تھے اتنے ایام کی فیس کی واپسی کا مطالبہ  جائز ہے۔

توجیہ:سکول کی سالانہ چھٹیاں کام کے دنوں کے  تابع ہوتی ہیں اور چھٹیوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سکول کا عملہ آرام کرکے اس کے بعد تندہی سے کام کرے لہذا  سکول کی  انتظامیہ کو چھٹیوں کی فیس لینے کا استحقاق اسی وقت ہوگا جب چھٹیوں کے بعد بھی معاہدہ کے مطابق  کام کیا جائے    جبکہ مذکورہ صورت میں  سکول کی انتظامیہ  تبدیل ہوچکی ہے  جو   معاہدہ ختم کرنے کا ایک  معقول عذر  ہے  لہٰذا مذکورہ صورت میں والدین کے لیے چھٹیوں کی فیس واپس لینے کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔

نیز سالانہ فیس چونکہ پورے سال کی ہوتی ہے لہٰذا سال  سے پہلے معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں صرف اتنے دنوں کی فیس سکول کا حق ہے  جتنے دن طلباء نے سکول سے فائدہ اٹھایا اس سے زائد دنوں کی فیس والدین کو واپس کرنی ہوگی۔

رد المحتار (9/ 136) میں ہے:

و الحاصل أن كل عذر لا يمكن معه استيفاء المعقود عليه إلا بضرر يلحقه في نفسه أو ماله يثبت له حق الفسخ.

الفقہ الاسلامی (5/ 3830) میں ہے:

العذر هو ما يكون عارضاً يتضرر به العاقد مع بقاء العقد و لا يندفع بدون الفسخ.

شرح المجلہ (2/ 609) میں ہے:

إن العيب الحادث في المأجور كالموجود قبل العقد، لأن ما حدث من العيب يكون حدوثه قبل قبض ما بقي من المنافع المعقود عليها التي تحدث ساعة فساعة، فالفسخ في كل منهما أي البيع و الإجارة لا يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضى لكن لا بد أن يكون بحضرة المؤجر أو المشتري و علمهما

تنویر مع الدر (9/31) میں ہے:

 (واذا شرط عمله بنفسه ) بان يقول له:اعمل بنفسك او بيدك (لا يستعمل غيره الا الظئر فلها استعمال غيرها)

شامی میں ہے:

قوله لا يستعمل غيره) ولو غلامه او اجيره قهستاني لان المعقود عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه لانه استيفاء المنفعة بلا عقد زيلعي

شرح المجلہ (مادہ :571) میں ہے:

الاجير الذي استؤجر  على ان يعمل بنفسه ليس له ان يستعمل غيره مثلا لو اعطى احد جبة لخياط على ان يخيطها بنفسه بكذا دراهم فليس للخياط ان يخيطها   بغيره

امداد الاحكام (3/561)ميں ہے:

سوال:۔ در مدرسۃ از مدارس اسلامیہ مدرس قدیم یک سال از مہتمم صاحب اجازت گرفت ، بجائش دیگر معلم را جانشین جہت تعلیم کرد، چون مورخہ ۲۰؍شعبان امتحان سالانہ شد مہتمم بجانب مدرس جدید کہ سی روپیہ اجرت ماہ شعبان مرسول دوم اینکہ آئندہ سال را تو یقینًا امیدوار نباشی چرا کہ تو یک سال را مدرس بودی بجائے مدرسِ قدیم۔۔۔۔۔

الجواب: قال فی الدر: وهل یأخذ ایام البطالة کعید ورمضان لم أره وینبغی الحاقه ببطالة القاضی واختلفوا فيها والاصح أنه یأخذ لأنها للاستراحة اشباه من قاعدة العادة محکمة اھ۔ (ج؍۳،ص؍۵۸۷، مع الشامی) اس سے معلوم ہوا کہ تعطیل کے زمانہ میں استحقاقِ تنخواہ کا سبب یہ ہے کہ استراحت کے لئے یہ تعطیل ہوتی ہے اور یہ علت اس شخص میں موجود ہوسکتی ہے جو تعطیل سے پہلے معزول نہ ہوا ہو، دوسرے شامی نے اس کا مبنی عرف پر کیا ہے جیسا کہ درمختار میں بھی اس کو قاعدۂ عادت سے نقل کیا ہے اور ہمارے یہاں عرف یہ ہے کہ ایامِ تعطیل کی تنخواہ کا مستحق وہی مدرس ہوتا ہے جو بعد تعطیل کے اپنے کام برقرار رہے اس کا متقضیٰ بھی یہی ہے کہ صورتِ مسئولہ میں یہ مدرس تنخواہِ رمضان کا مستحق نہیں، اور مہتمم کے قول میں سال سے اکثر حصہ سال کا مراد ہوسکتا ہے جس سے دخول رمضان لازم نہیں آتا، اگر مقام سوال کا عرف اس بارہ میں ہمارے عرف کے خلاف ہو تو سوال پھر کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved