- فتوی نمبر: 26-242
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > فرائض نماز کا بیان
استفتاء
محترم مفتی صاحب مندرجہ ذیل سوال کے بارے وضاحت درکار ہے نماز جمعہ اور عشاء کی کل رکعات کیا ہیں قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کے مطابق (1 ) عشاء کی نماز کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رکعات قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں بتا دیں کیونکہ ہم 17 رکعات اکھٹی پڑھتے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں یہ کہاں سے آئیں اس طرح نہیں پڑھتے اب مجھے تو 50 سال سے زیادہ ہو گئے اسی طرح پڑھتے ہوئے اب تو امام مسجد بھی اس طرح نہیں پڑھتے تو مسئلہ پوچھنا پڑا تفصیل اس طرح ہےکہ:
4سنت غیر موکدہ (پڑھ لو یا چھوڑ دو)4 فرض(لازمی)2 سنت موکدہ(لازمی جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھے)2نفل ( کہاں سے آئے)3 وتر ( تہجد کے وقت یا عشاء کی نماز کے ساتھ اگر دو تہائی رات کے وقت نہ اٹھ سکتے ہوں)یہ بعد والے 2 نفل( کہاں سے آئے) اگر تہجد میں پہلے 2’4’8 یا 12 نفل جو پڑھنے ہیں تو وہ پھر وتر سے پہلے پڑھنے ہوں گے حدیث کی روشنی میں کہ آخری نماز وتروں کو بناؤ ۔
ذرا تفصیل سے جواب دیں شکریہ کیونکہ مختلف آراء ہیں جن کی وجہ سے پوچھا 50 سالہ نمازوں میں شک پیدا کر دیا گیا ہے۔
(2)مفتی صاحب اسی طرح ہم دیوبندی جمعہ میں 14 رکعات پڑھتے ہیں پنجاب کے گاؤں میں چلے جائیں تو وہ 18 رکعات پڑھتے ہیں ظہر کے فرض احتیاط کے طور پر ہمیں یہ بات بھی عجیب لگتی ہے کیونکہ پہلے یہ نہیں تھا اور اہل حدیث جمعہ میں 2 سنت پہلے شاید تحیۃ المسجد2 رکعت نماز جمعہ 2 سنت یا 4 سنت پڑھتے ہیں۔
اس کا بھی صحیح طریقہ و رکعات بتا دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)احادیث کی رو سے عشاء کی 17 رکعات ثابت ہیں جن میں سے چار فرض دو سنت اور تین وتر کے بارے میں تو بظاہر کسی کو کوئی اشکال نہیں لہذا ان کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں باقی رہی عشاء سے پہلے کی چار سنت اور عشاء کی دو سنتوں کے بعد دو نفل اور وتر کے بعد دو نفل تو ان کے حوالے مندرجہ ذیل ہیں ۔
عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھنے سے متعلق حدیث:
مختصر قيام الليل لمحمد بن نصر المروزی (صفحہ نمبر:88)میں ہے:
وعن سعيد بن جبير رحمه الله : كانوا يستحبون اربعا قبل العشاء الآخرة.
ترجمہ: مشہورتابعی حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
عشاء کی دو سنتوں کے بعد دو نفل پڑھنے سے متعلق حدیث:
سنن ابو داؤو (رقم الحدیث:1348) میں ہے:
عن عائشة أم المؤمنين، أنها سئلت عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: كان يصلي بالناس العشاء، ثم يرجع إلى أهله، فيصلي أربعا، ثم يأوي إلى فراشه.
ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی بابت پوچھا گیا تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ کر گھر آتے اور چار رکعتیں (دو سلاموں کے ساتھ ، دو سنت مؤکدہ اور دو نفل) پڑھ کر بستر پر آرام فرماتے۔
وتر کے بعد دو رکعت سے متعلق حدیث:
سنن ترمذی (رقم الحدیث:471) میں ہے:
عن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الوتر ركعتين.
ترجمہ:حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپﷺ وتر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
مسند دارمی (رقم الحدیث:1635) میں ہے:
عن ثوبان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إن هذا السهر جهد وثقل، فإذا أوتر أحدكم، فليركع ركعتين، فإن قام من الليل، وإلا كانتا له.
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (تہجد کے لئے) رات کو بیدار ہونا مشکل اور گراں ہوتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی آدمی (رات کے آخری حصے میں جاگنے کا )یقین نہ رکھتا ہو اور سونے سے پہلے یعنی عشاء کی نماز کے بعد وتر پڑھے، تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھ لے، اگر وہ نماز تہجد کے لئے رات کو اٹھ گیا تو بہتر ہے اور اگر نہ اٹھ سکا، تو پھر یہ دو رکعتیں کافی ہوں گی۔
( 2)جمعہ کی نماز کی 12 رکعات ہیں، نہ کہ 14 یا 18 ۔ان بارہ رکعات میں سے جمعہ کی دو رکعات کے حوالے کی تو ضرورت نہیں باقی جمعہ سے پہلے اور بعد کی رکعات کے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں ۔
جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت کا حوالہ:
المعجم الاوسط للطبرانی(رقم الحدیث:172) میں ہے:
عن علي كان رسول الله يصلي قبل الجمعة اربعا۔
ترجمہ :حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ۔
جمعہ کے بعد چھ رکعت پڑھنے کا حوالہ:
شرح معانی الاثار (رقم الحدیث :1978) میں ہے:
عن ابی عبد الرحمن السلمی عن علی انه قال من کان مصلیا بعد الجمعة فلیصل ستا۔
ترجمہ:حضرت علی ؓسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جوشخص جمعہ کےبعد نماز پڑھے اسے چاہیے کہ وہ چھ رکعت پڑھے۔
المعجم الکبیر للطبرانی (رقم الحدیث:9550) میں ہے:
عن ابی عبد الرحمن السلمی قال کان عبد الله بن مسعود یعلمنا ان نصلی اربع رکعات بعد الجمعةحتی سمعنا قول علی : صلوا ستا۔فقال ابو عبد الرحمن فنحن نصلی ستا.
ترجمہ:حضرت عبدالرحمٰن السلمی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں سکھایا کہ ہم جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول سنا کہ تم چھ رکعت پڑھو ابوعبدالرحمن کہتے ہیں پھر ہم چھ رکعت پڑھتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved