• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

استعمال شدہ چیزیں زکوٰۃ کی مد میں سے دینے سے زکوٰۃ کا حکم

استفتاء

استعمال شدہ  چیزیں جو بہت مختصر وقت کے لیے  استعمال کی گئی ہوں بالکل نئی اور صاف ہوں کیا زکوٰۃ میں دے سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دے سکتے ہیں اور مارکیٹ میں اس استعمال شدہ چیز کی جو قیمت ہوگی اسی کے بقدر زکوٰۃ  شمار ہوگی۔

شامی (3/270) میں ہے:

وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه اعتبرت القيمة.

امداد الفتاویٰ (2/43) میں ہے:

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی مال میں زکوٰۃ واجب ہو ،تو آیا اسی میں سے ادا کرنا اسکا ضروری ہے یا خلاف جنس میں سے بھی ادا کردے تو ادا ہوجاتا ہے جیسے کسی کے ذمہ سونے یا چاندی کی زکوٰۃ میں ایک روپیہ واجب ہوا اور وہ اس روپیہ کا کپڑاخرید کر کسی کو دیدے تو زکوٰۃ ادا ہوجا وے گی یا نہیں ؟

الجواب: زکوٰۃ خلاف جنس سے بھی ادا ہوجاتی ہے اور خلاف جنس قیمت میں واجب کے برابر ہونا چاہیے۔

مسائل بہشتی زیور (1/340) میں ہے:

مسئلہ: استعمال شدہ چیز اگر زکوٰۃ میں دی جائے تو دیکھیں گے کہ بازار  میں اس کو فروخت کیا جائے تو کتنی قیمت مل جائے گی وہ چیز دینے سے اتنی ہی قیمت کی زکوٰۃ میں ادائیگی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved