- فتوی نمبر: 36-102
- تاریخ: 04 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > اذان و اقامت کا بیان
استفتاء
1۔ہماری مسجد میں الحمد للہ پانچ وقت کی جماعت ہوتی ہے مگر جو اقامت ہوتی ہے وہ کوئی بھی کہہ دیتا ہے مثلاً جس کی داڑھی ایک انچ ہوتی ہے وہ بھی کہہ دیتا ہے حالانکہ مکمل داڑھی والے لوگ موجود ہوتے ہیں اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
2۔جس کی داڑھی چھوٹی ہے اسے اقامت کا بہت شوق ہے مگر داڑھی پوری نہیں کرتا کیا اسے منع کیا جائے یا اقامت کہنے دیا جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔داڑھی والے لوگوں کی موجودگی میں داڑھی کتروانے والے کو اقامت نہیں کہنی چاہیے البتہ اگر پھر بھی وہ اقامت کہہ دے تو اس کا اعادہ ضروری نہیں اور نماز ہوجائے گی۔
2۔منع کرسکتے ہیں، لیکن منع کرنا حکمت سے ہو جھگڑے والی صورت اختیار نہ کی جائے۔
مراقی الفلاح (ص: 79) میں ہے:
ويكره التلحين واقامة المحدث واذانه واذان الجنب وصبى لا يعقل ومجنون وسكران وامرأة وفاسق وقاعد والكلام في خلال الاذان وفي الاقامة ويستحب اعادته دون الاقامة.
الدر المختار مع ردالمحتار (2/75) میں ہے:
(ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب (و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما، لكنه أولى بإمامة وأذان من جاهل تقي ……….(ويعاد أذان جنب) ندبا وقيل وجوبا.
(قوله: ويعاد أذان جنب إلخ) زاد القهستاني: والفاجر
احسن الفتاوی (2/287) میں ہے:
سوال: داڑھی منڈے انگریزی بال رکھنے والی کی اذان اقامت درست ہے یا نہیں؟
جواب: داڑھی منڈانے یا کترانے والا اور انگریزی بال رکھنے والا فاسق ہے اس لیے اس کی اذان واقامت مکروہ تحریمی ہے، اس کی اذان کا اعادہ مستحب ہے، اقامت کا نہیں۔
فتاوی محمودیہ (5/438) میں ہے:
سوال: داڑھی منڈانے والا اذان دے سکتا ہے یا تکبیر کہہ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: مکروہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved