- فتوی نمبر: 35-164
- تاریخ: 07 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
ایک عورت کی بکری حاملہ تھی ،اس وقت عورت نےکہا تھاکہ”کچھ بھی ہو ااس کو اللہ کے نام پر قربان کردوں گی” اس بکری کو دوبکرے ہوئے ہیں ۔اب وہ عورت چاہتی ہے کہ ان دونوں کو بیچ کر بڑے جانور کو قربان کرے تو کیااس کے ليے ایسا کرنا ٹھیک ہے یا ان دونوں بکروں کی ہی قربانی کرنی پڑےگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ان دونوں بکروں کو بیچ کر بڑے جانور کو قربان کرنا بھی درست ہے تاہم قربان کرنے سے اس عورت کی مراد اگر عید کے دنوں میں قربانی کرنا تھی تو عید کے دنوں میں قربان کرنا ضروری ہے ورنہ عام دنوں میں بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ نیز اس جانور کا گوشت نہ یہ عورت خود کھا سکتی ہے اور نہ اس کا گوشت مالدار (غیر مستحق زکوٰۃ) لوگوں کو کھلایا جاسکتا ہے اس گوشت کا مصرف صرف فقراء(مستحق زکوۃ لوگ) ہیں۔
شامی (5/545) میں ہے:
(ولو قال لله علي أن أذبح جزورا وأتصدق بلحمه فذبح مكانه سبع شياه جاز) ….. (نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه.
امداد الفتاویٰ (2/546) میں ہے:
سوال(۱۴۴۳) : قدیم ۲/۵۵۸ – ایک شخص کے پاس ایک بکری تھی وہ بیمار ہوگئی اُس نے زبان سے کہا کہ اگر یہ بکری اچھی ہوجائے گی تو قربانی کروں گا۔ پھر وہ اچھی ہوگئی تو اُس کو قربانی کرنا ضروری ہے یعنی یہ کہنا کہ یا اللہ اگر اچھی ہوجائے تو قربانی کروں گا نذر ہے اور اگر نذر ہو اور اُس کو بیچ ڈالے تو اب اُس کی قیمت کو کیا کرے ؟
الجواب: قربانی سے مراد اگر مطلق ذبح ہے تب تو کسی زمان کی قید نہ ہوگی اور اگر تضحیہ مراد ہے تو ایام نحر کی قید ہوگی۔ اور نیز ذبح مراد لینے میں یہ بھی اختیار ہے خواہ ذبح کرکے تصدق کرے یا بکری کی قیمت کا تصدق کردے۔ اور بیچ ڈالنے کے بعد بھی دونوں اختیار ہیں خواہ دوسری بکری خرید کر ذبح وتصدق کرے خواہ وہ قیمت تصدق کردے۔ اور اگر تضحیہ مراد لیا ہے اور پھر بیچ ڈالا تو اگر کسی خاص سال کی قید لگائی تھی تو اس کی قیمت کا تصدق کردے اور اگر تضحیہ میں کسی سال کی قید نہ لگائی تھی تو ایام نحر میں اُس قیمت کی بکری خرید کر قربانی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved