• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

لفظ “حوالہ” سے ایجاب و قبول کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا  لفظ “حوالہ” کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے سے نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اس طریقے سے ان الفاظ کے ساتھ ایجاب و قبول کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

تنقیح:میں بذات خود نکاح پڑھا چکا ہوں جس کا ایجاب و قبول میں نے ” حوالے” کے الفاظ کے ساتھ کروایا ہے ایجاب و قبول پشتو میں ہوا تھا جس میں میں نے لڑکے کے وکیل یعنی اس کے والد کو مخاطب ہو کر یہ الفاظ کہے :

ایجاب : “زینب چی لورده خالد محموددا ما ستا زوی ساجد دپارہ تاتہ بہ دوه تولی مہر سونی سرہ حوالہ کڑی دا .”

قبول: “جی ماتہ قبول دا”

ترجمہ: ایجاب۔” زینب جو کہ خالد محمود کی بیٹی ہے ان کو میں نے آپ کےبیٹے ساجد کے لیے دو تولے مہر کے ساتھ آپ کے حوالے کر دیا ہے۔”

قبول:” جی مجھے قبول ہے۔”

نوٹ: ہمارے دار الافتاء کے ایک سینئر مفتی صاحب نے اس بات کی تصدیق  کی ہے کہ لفظ “حوالہ کرنا ” اردو میں جن معانی میں استعمال ہوتا ہے پشتو میں بھی انہیں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں نکاح ہوگیا ۔

توجیہ: ایجاب و قبول  جیسے ان الفاظ سے درست ہوجاتا ہے جو صراحتاً نکاح کے معنی پر دلالت کرتے ہوں ایسے ہی ان الفاظ سے بھی درست ہوجاتا ہے جو کنایۃً نکاح کے معنی پر دلالت کرتے ہوں بس شرط یہ ہے کہ وہ الفاظ بولتے وقت نیت یا قرینہ نکاح کا ہو اور دوسرا نکاح کے گواہ بھی ان الفاظ سے اس وقت نکاح کے منعقد ہونے کو سمجھتے ہوں، مذکورہ صورت میں ایجاب لفظ “حوالہ ” سے کیا گیا ہے جو عربی میں اگر چہ “اپنا دین کسی کے ذمے منتقل کرنے “کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن اردو میں اس کےایک معنی “دینے” کے بھی آتے ہیں جو کہ نکاح کے کنائی الفاظ میں سے ہےاور اردو اور پشتو میں اس لفظ کے استعمال میں کوئی فرق بھی نہیں  لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ ایجاب کروانے والے کی نیت نکاح ہی کی تھی اور مجلس بھی نکاح کی تھی جس سے گواہوں نے بھی اسے نکاح  ہی سمجھا  اس لیے مذکورہ صورت میں نکاح منعقد ہو گیا تاہم آئندہ کوشش کی جائے کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جو تشویش کا باعث بنیں بلکہ نکاح کے صاف الفاظ استعمال کیے جائیں  ۔

درمختار (3/ 16)میں ہے:

«(وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة فلا يصح بالشركة (في الحال) خرج الوصية غير المقيدة بالحال (كهبة وتمليك وصدقة وعطية وقرض وسلم واستئجار) وصلح وصرف وكل ما تملك به الرقاب بشرط نية أو قرينة وفهم الشهود المقصود (لا) يصح (بلفظ إجارة) براء أو بزاي (وإعارة ووصية) ورهن الوديعة ونحوها مما لا يفيد الملك

فہرنگ آصفیہ (2/728) میں ہے:

حوالے کرنا: سپرد کرنا ۔دینا ۔پکڑانا

رد المحتار (3/ 26) میں ہے:

«وبقي أيضا قولهم زوجتك بنتي لابنك فيقول قبلت ويظهر لي أنه ينعقد للأب لإسناد التزويج وقول أبي البنت لابنك معناه لأجل ابنك فلا يفيد وكذا لو قال الآخر قبلت لابني لا يفيد أيضا، نعم لو قال أعطيتك بنتي لابنك فيقول قبلت فالظاهر أنه ينعقد للابن لأن قوله أعطيتك بنتي لابنك معناه في العرف أعطيتك بنتي زوجة لابنك، وهذا المعنى وإن كان هو المراد عرفا من قولهم زوجتك بنتي لابنك لكنه لا يساعده اللفظ كما علمت والنية وحدها لا تنفع كما مر، والله سبحانه أعلم»

احسن الفتاویٰ (5/16) میں ہے:

سوال، ایک شخص نے کسی کو کہا کہ میں نے اپنی لڑکی تم کو دیدی، اس نے قبول کیا، تو یہ نکاح ہو گیا یا نہیں ؟ ہمارے اطراف میں عموما پہلے اس قسم کے الفاظ بلا ذکر مہر وغیرہ کے کہے جاتے ہیں، اور بعد میں مستقلا نکاح رسوم مروجہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، سو نکاح پہلے الفاظ سے منعقد ہو گا یا دوسرے عقد سے ؟ اگر پہلے سے نکاح نہیں ہوتا تو اس عورت کا نکاح کیا دوسری جگہ کر دینا صحیح ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب :سوال میں مذکورہ الفاظ ہبہ کے ہیں، اور ہبہ سے نکاح تب منعقد ہوتا ہے کہ متکلم نکاح کی نیت کا اقرار کرے یا نیت نکاح کا قرینہ موجود ہو، مثلاً ذکر مہر ووجود شهودو  تقدم خطبہ وغیره بدوں قرینہ کے ان الفاظ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا ……… الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved