• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مالِ وراثت میں قربانی اور حج کا حکم

استفتاء

میں ایک مدرسہ میں خدمت انجام دے رہا ہوں اور میری موجودہ تنخواہ 11500 روپے ہے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد کچھ زمین وراثت میں ملی ہے، جو ابھی مشترکہ حالت میں ہے اور باقاعدہ قبضہ میں نہیں آئی۔ اس وقت اندازاً 5/6 فیصد حصہ میرا بنتا ہے، اور اگر بہنیں خوش دلی سے اپنا حصہ نہ لیں اور ہمیں دے دیں، تو تقریباً 8 فیصد زمین میری ملکیت میں آ جائے گی، لیکن وہ بھی ابھی تک قبضہ میں نہیں آئی۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ جب زمین قبضہ میں آ جائے گی تو میں اسے کرایہ پر دے دوں گا، اور اس کا کرایہ گھریلو اخراجات میں استعمال کروں گا۔ نیز میری تنخواہ میں سے اگر کچھ بچت ہو تو ان شاء اللہ اسے جمع کروں گا تاکہ گھریلو ضروریات، بچوں کی تعلیم اور شادی وغیرہ میں کام آ سکے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ گھر کے حصہ کے علاوہ، اگر بہنیں اپنا حصہ دے دیں اور 8 فیصد زمین سے کچھ زياده میری ملکیت میں آجائے (حالانکہ وہ ابھی مشترکہ ہے اور میرے قبضہ میں نہیں)، تو کیا اس صورت میں مجھ پر قربانی اور حج فرض ہوں گے؟ اور جب زمین میرے قبضہ میں آ جائے اور میں اسے کرایہ پر دے دوں، پھر اس کا کرایہ گھریلو اخراجات میں خرچ کروں، (1) تو کیا اس زمین کی وجہ سے مجھ پر حج فرض ہوگا؟ (2)اور قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں والد صاحب کے انتقال سے لے کر ابھی تک اگر آپ کو حج کے مہینوں (شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں  یا جن مہینوں میں درخواستیں جمع ہوتی ہیں  ،ان مہینوں میں  اپنے حصے کی وراثت لینے پر قدرت ہو  یعنی آپ اگر اپنے وراثتی حصے کا مطالبہ کریں  تو آپ کو وراثتی حصہ مل جائے گا  یا کم از کم اتنا حصہ مل جائے گا جس سے حج ادا ہوسکتا ہو   تو آپ پر حج فرض ہوگا اور اگر کبھی ایسا زمانہ گزر گیا ہے اور وراثت لینے پر قدرت تھی تو آپ پر حج فرض ہوچکا ہے۔

(2)اگر  قربانی کے دنوں میں بقدر قربانی کے پیسے موجود ہوں یا مطالبے پر وراثت ملنے کی امید ہو یا کم از کم قربانی کے بقدر پیسے ملنے کی امید ہو  قربانی کرنا واجب ہوگی۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ وراثت کی زمین دین نہیں ہے بلکہ عین کی شکل میں ورثاء کے پاس موجود ہے اور اس میں آپ کا بھی حصہ ہے لہذا اگر آپ  کو اپنا حصہ لینے کی قدرت ہے تو آپ پر قربانی اور حج فرض ہوگا لیکن اگر آپ کو لینے کی قدرت نہیں اور باوجود کہنے کے وہ تقسیم نہیں کرتے اور آپ کا حصہ آپ کے حوالے نہیں کرتے تو آپ پر قربانی اور حج فرض نہیں ۔

ہدایہ (1/ 132)میں ہے:

الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا ‌قدروا ‌على ‌الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا….. ولا بد من القدرة على الزاد والراحلة وهو قدر ما يكترى به شق محمل أو رأس زاملة وقدر النفقة ذاهبا وجائيا.

غنیۃ الناسک(ص:31)میں ہے:

السادس:الاستطاعة:وهي القدرة علي زاد يليق بحاله ولو لمكي ملكا لابالاباحة وعلي راحلة مختصة به لغير مكي ومن حولها بالملك أو الاجارة لا بالاباحة أو الاعارة…..ومعني القدرة علي زاد وراحلة ملك مال يبلغه الي مكة ذاهبا وجائيا راكبا في جميع السفر بثمن المثل أو أجرة المثل بنفقة وسط لا اسراف فيها ولا تقتير….ثم القدرة علي الزاد والراحلة شرط الوجوب باتفاق الفقهاء.

السابع:الوقت اي وجود القدرة فيه وهو أشهر الحج أو وقت خروج أهل بلده ،ان كانوا يخرجون قبلها فلا يجب الا علي القادر فيها أو في وقت خروج أهل بلده فلو ملك المال قبل الوقت فله صرفه حيث شاء.

ہندیہ (5/ 307) میں ہے:

له ‌دين ‌حال ‌أو ‌مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه. له مال كثير غائب في يد شريكه أو مضاربه ومعه ما يشتري به الأضحية من الحجرين أو متاع البيت تلزمه الأضحية، كذا في القنية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved