- فتوی نمبر: 26-307
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
احادیث میں اور اسی طرح قرآن کریم میں بعض ایسی دعائیں ہوتی ہیں جن میں واحد متکلم کا صیغہ استعمال ہواہے۔ہم اس کو تبدیل کرکے جمع متکلم کا صیغہ بنا کر پڑھتے ہیں انفرادی اور اجتماعی دعا میں اور اس میں نیت پوری امت کی کرتے ہیں تو کیا اس طرح دعا کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآن وحدیث میں جو دعائیں بصیغہ واحد وارد ہوئی ہیں انھیں دعا کے طور پر جمع کے صیغےکے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔
رد المحتار(2/286)میں ہے:
وفي أخرى «أنه ضرب منكب من قال اغفر لي وارحمني، ثم قال له: عمم في دعائك، فإن بين الدعاء الخاص والعام كما بين السماء والأرض»
فتاوی محمودیہ (724/5)میں ہے:
سوال[2493]احادیث میں بعض دعاؤں میں واحد متکلم کا صیغہ ہے۔اجتماعی دعاؤں میں جمع متکلم کا صیغہ استعمال کرنا درست ہے یا نہیں مثلا إھدنی کی جگہ إھدنا ۔
الجواب حامدا و مصليا:درست ہے۔فقط واللہ اعلم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved