- فتوی نمبر: 26-288
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
میراسوال آئی لیشنز کےمتعلق ہے کہ قدرتی پلکوں کےاوپر گلو کے ساتھ خوبصورتی کےلیے مصنوعی پلکیں لگائی جاتی ہیں ۔ کیا ان کے ہوتے ہوئے وضو کرنے سے وضو ہو جائے گا یا نہیں ۔میں نے آپ کو اس کی تصویر بھیجی ہے ۔ یہ ہماری آنکھوں کے بال کی طرح بال ہیں جو ایک ایک کر کے ہمارے قدرتی بال میں گلو کے سا تھ لگائے جا تے ہیں ۔ یا د رہے یہ باہر کی سکن (جلد)کو نہیں لگتیں بلکہ اندر کے حصہ میں لگتی ہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری معلومات کے مطابق مصنوعی پلکیں دو طریقوں سے لگتی ہیں ۔
ایک یہ کہ مصنوعی پلکیں ایک باریک سی ٹیپ پر لائن سے لگی ہوتی ہیں اس ٹیپ کو قدرتی پلکوں کی جڑ وں سے او پرباہرکی جانب کھال پر چپکا دیا جا تا ہے جس سے قدرتی پلکیں گھنی لگتی ہیں ۔
اور دوسرایہ کہ مصنوعی پلکوں کے ایک ایک بال کو قدرتی پلکوں کے جڑوں کےدرمیان کھال پرگلو کے ذریعے لگایا جائے۔
دونوں صورتوں میں چونکہ وضو کاپانی پلکوں کی جڑوں یا ان سے اوپرکھال تک نہیں پہنچتا۔ جبکہ وضو یا غسل میں پلکوں کی جڑوں اور ان کی اوپرکی کھال کو دھونا ضروری ہےاس لیےمصنوعی پلکوں میں وضو اورغسل درست نہیں ۔
الشرح الکبیر (ص:40)میں ہے:
(وان لايغمض فاه ولا عينيه تغميضا شديدا)بان تكتم حمرة الشفتين ومحاجر العينين اي اطراف الاجفان منابت الهدب(حتى لوبقيت على شفتيه اوعلى جفنيه لمعة)اي بقية ولو قدر موضع راس الابرة (لايجوزوضوءه)لوجوب استيعاب الوجه وهى منه
فتاویٰ محمودیہ(332/19)میں ہے:
سوال:۔ کیا عورتیں بنے ہوئے لمبے بالوں، ہونٹوں پر سرخی اور آنکھوں کی پلکوں پر رنگ کرکے نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب :اگر وہ سرخی ایسی ہے جس نے بالوں اور ہونٹوں کو ڈھانک لیا اور طہارت میں پانی وہاں نہیں پہونچتا تو طہارت ناممکن رہے گی اور نماز نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved